Cloud Front
national-assembly

قومی اسمبلی وقفہ سوالا ت ، سندھ کے نامور سیاستدان بجلی چوری میں ملوث

واسا کی سرکاری بجلی سے اپنی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں،کسی بھی صو بائی حکومت نے ہمیں زرعی اراضی کے کمرشل استعمال سے متعلق اعداد وشمار فراہم نہیں کئے، پارلیمانی سیکرٹری رجب علی بلوچ
جن علاقوں میں بجلی چوری ہوگی وہاں پر بجلی فراہم نہیں کی جائے گی، عا بد شیر علی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کو وفقہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ سندھ میں بڑے بڑے سیاستدان بجلی چوری میں ملوث ہیں اور واسا کی سرکاری بجلی سے اپنی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں ،ملک کے جن علاقوں میں بجلی چوری ہوگی وہاں پر بجلی فراہم نہیں کی جائے گی ،ملک میں جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں اور چھاپوں کے دوران کروڑوں روپے کی جعلی ادویات قبضے میں لیکر تلف کر دی گئی ہے ،اسلام آباد میں سرکاری رہائش گاہوں کی تعمیر پر پابندی کی وجہ سے مسائل درپیش ہیں وزیر اعظم کو نئے سرکاری مکانات تعمیر کرنے کیلئے تجاویز بھجوائی گئی ہیں ،بدھ کے روزقومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران جماعت اسلامی کی رکن اسمبلی عائشہ سید کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری رجب علی بلوچ نے بتایا کہ زرعی اراضی کے کمرشل ااستعمال کی وجہ سے ملک بھر میں زرعی اراضی کم ہورہی ہے انہوں نے کہاکہ آبادی کے بڑھنے کیوجہ سے بھی زرعی اراضی کمی ہورہی ہے مگر اس کے برعکس شماریات ڈویژن ہمیں غلط اعدادو شمار فراہم کرتا ہے

انہوں نے کہا کہ کسی بھی صو بائی حکومت نے ہمیں زرعی اراضی کے کمرشل استعمال سے متعلق اعداد وشمار فراہم نہیں کئے ہیں ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر درشن نے کہاکہ تمام ادویات جان بچانے والی ہوتی ہیں اور جو بھی کمپنی پہلے آتی ہے اسے رجسٹرڈ کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ بچوں کو ماؤں کا دودھ پلانے کیلئے حکومت اقدامات کر تی ہے انہوں نے کہاکہ ادویات بنانے کی ذمہ داری کمپنی کی ہوتی ہے اگر کسی بھی کمپنی کی کوئی دوائی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے تو ااس کے بارے میں ہمیں بتایا جائے رکن اسمبلی ثریا جتوئی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ادویات کی چیکنگ وفاقی اور صوبائی ادارے کرتے ہیں اور اب غیر معیاری ادویات فراہم کرنے کے چانسز کم ہوتے ہیں انہوں نے بتایاکہ پوری دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں پر ڈرگ کورٹ ہیں اور ان سے سزائیں دی جاتی ہیں رکن اسمبلی شمس النساء کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری نے بتایاکہ 1995میں وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں سرکاری رہائش گاہوں کی تعمیر پر پابندی لگائی تھی اب وزیر اعظم سے اس سلسلے میں تجویز بھجوائی گئی ہے تاہم یہ پالیسی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے انہوں نے بتایاکہ سرکاری ملازم کے ریٹائرڈ ہونے کی صورت میں 6ماہ کے اندر سرکاری مکان خالی کرنا پڑتا ہے رکن اسمبلی ڈاکٹر فوزیہ حمید،منور تالپور اور صاحبزادہ طارق اللہ کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت عابد شیر علی نے کہاکہ پورے پاکستان میں بجلی کے نظام کو اپ گریڈ کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں اور اس وقت بجلی کا نظام بہتر کر لیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ پورے پاکستان میں شیڈول کے مطابق لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے تاہم جن فیڈر ز پر لاسز زیادہ ہونگے یا بجلی چوری ہوگی

یا صارفین بجلی کے بل ادا نہیں کریں گے وہاں پر بجلی فراہم نہیں جائے گی انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں گرڈ سٹیشنز کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے ڈاکٹر عمران خٹک کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے بتایا کہ جن فیڈرز میں بجلی چوری کے مسائل ہیں وہاں پر ترقیاتی منصوبے پر تاخیر سے مکمل کئے جاتے ہیں رکن اسمبلی نگہت پروین کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت پانی و بجلی نے بتایا کہ نیلم جہلم سے اس سال کے اخر تک 250میگا واٹ بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی انہوں نے کہاکہ نیلم جہلم کی کل پیداوار 900میگا واٹ ہے تاہم یہ منصوبہ2018تک مکمل کر لیا جائے گاانہوں نے کہاکہ پورے ملک میں 8500فیڈرزنگرانی کی جاتی ہے اور جن جن فیڈرز لاسز زیادہ ہیں وہاں پر کم بجلی فراہم کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں موبائل میٹر ریڈنگ شروع کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ بجلی پرپورے پاکستان کے عوا م کا حق ہے جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ ہے وہاں پر اراکین اسمبلی ہماری مدد کریں ورنہ اگلی گرمیوں میں دوبارہ چیخ و پکار ہوگی انہوں نے کہاکہ واسا کے کنکشن زمینوں کو سیراب کرنے استعمال کیا جاتا ہے اور واسا اس وجہ سے اربوں روپے کی مقروض ہوچکی ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ملک کے 15بڑے بڑے سیاستدان اور زمیندار بجلی چوری میں ملوث ہیں رکن اسمبلی امجد علی خان کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت عابد شیر علی نے کہاکہ تمام علاقوں میں معمول کے مطابق لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے اور کسی بھی علاقے کے ساتھ زیادتی نہیں کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں تمام گرڈ سٹیشنز مارچ2018سے قبل مکمل کر لئے جائیں گے

اور بجلی کی اوور لوڈنگ اور کم وولٹیج کے مسائل حل ہوجائیں گے رکن اسمبلی اویس لغاری نے کہاکہ بجلی چوری میں واپڈا کے اہلکار بھی ملوث ہوتے ہیں اس سلسلے میں بھی کوئی پالیسی بنائی جائے جس پر وزیر مملکت عابد شیر علی نے کہاکہ بجلی چوری میں ملوث ہونے پر واپڈا کے سینکڑوں اہلکاروں کو نوکریوں سے برخاست کیا ہے تاہم اس کیلئے تمام ضروری لوازمات مکمل کئے جاتے ہیں رکن اسمبلی لال چند کی ہولی کے موقع پر عمر کوٹ سمیت اقلیتی علاقوں میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی درخواست پروزیر مملکت نے یقین دہانی کرائی کہ عمرکوٹ میں ہولی کے تہوار کے موقع پر لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی رکن اسمبلی پروین مسعود بھٹی کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت عابد شیر علی نے کہاکہاقائد اعظم سولر پارک سے مجموعی طور پر 80میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ پوری دنیا گرین انرجی کی سمت جارہی ہے رکن اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی نے پوچھا کہ کراچی الیکٹرک کے مسائل کب حل ہونگے جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ اسمبلی سیشن کے اختتام پر سندھ کا دورہ کرونگا اور وہاں پر درپیش مسائل کے حل کئے اقدامات کئے جائیں گے.