Cloud Front

سی آئی اے کی ہیکنگ سے متعلق معلومات افشا کرنے کی فوجداری تحقیقات کا آغاز

انکشا فا ت امر یکی عوام کے لیے مشکلا ت پیدا کر سکتے ہیں ، حکام

واشنگٹن: امریکی حکام کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسیوں نے سی آئی اے کی ہیکنگ سے متعلق دستاویزات منظرعام پر آنے کی فوجداری تحقیقات شروع کر دی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق وکی لیکس کی جانب سے ہزاروں دستاویزات جاری کرنے کی تحقیقات میں سی آئی اے اور ایف بی آئی ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں۔چند امریکی حکام نے مقامی میڈیا کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ فوجداری تحقیقات میں دیکھا جائے گا کہ کس طرح فائلز وکی لیکس کی تحویل میں آئیں جبکہ تحقیقات میں یہ بھی معلوم کریں گے کہ آیا یہ خلاف ورزی سی آئی اے کی اندر سے ہوئی یا باہر سے۔منظرعام پر لائی جانے والی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کے پاس سمارٹ فونز سے لے کر ٹی وی کے مائیکرو فونز کو ہیک کرنے کے طریقہ کار موجود ہیں۔سی آئی اے، ایف بی آئی اور وائٹ ہاؤس نے افشا ہونے والی دستاویزات کے مصدقہ ہونے کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔

سی آئی اے کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وکی لیکس کی جانب سے انٹیلی جنس کمیونٹی کی امریکہ کو دہشت گردوں اور دیگر مخالفین سے تحفظ دینے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کے لیے کچھ بھی منظرِ عام پر لانا امریکی عوام کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’اس طرح کے انکشافات نہ صرف امریکی اہلکاروں اور آپریشنز کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ ہمارے مخالفین کو ایسے آلہ کار اور معلومات سے لیس کرتے ہیں جس سے وہ ہمیں نقصان پہنچا سکیں۔وکی لیکس کا کہنا ہے کہ اس کے ذرائع نے معلومات کا تبادلہ کیا ہے تاکہ اس بحث کو شروع کیا جا سکے کہ آیا سی آئی اے کی ہیکنگ صلاحتیں اس کو حاصل اختیارات سے تجاوز ہیں۔اس کے علاوہ دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی آئی اے نے آئی فونز، آئی پیڈز کو ہدف بنانے کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیا جس کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا تھا کہ صارف کس جگہ موجود ہے، ڈیوائسز کے کمیرے اور مائیکرو فون کو آن کیا جا سکتا تھا اور فون پر ٹیکسٹ پیغامات کو پڑھا جا سکتا تھا