Cloud Front
ISlambad High COurt

توہین آمیز مواد ہٹوانے کیلئے وزیراعظم کو بلانا پڑا تو بلائیں گے، اسلام آباد ہائی کورٹ

سیکرٹری داخلہ سوشل میڈیا پر تمام متنازعہ مواد وزیراعظم کو بھجوائیں،، جسٹس شوکت صدیقی
عدا لت کا سوشل میڈیا پر تمام متنازع پیج بلاک کرنے کا حکم دیدیا، گستاخانہ مواد کی تشہیر کیخلاف مقدمہ بھی درج ، کیس کی مزید سماعت 13 مارچ تک ملتوی

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر تمام متنازع پیج بلاک کرنے کا حکم دے دیا جبکہ جسٹس شوکت صدیقی نے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ سوشل میڈیا پر تمام متنازعہ مواد وزیراعظم کو بھجوایا جائے اور اگر اس معاملے میں وزیراعظم کو عدالت بلانا پڑا تو بلائیں گے،ادھر سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا، کیس کی مزید سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی۔اس موقع پر سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز اجلاس ہوا جس میں وزیرداخلہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی،چیئرمین پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ تمام چھ پیجز بلاک کردیئے گئے ہیں،

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ بھی درج کرلیا گیا،
مقدمے میں توہین رسالت کی دفعات شامل کی گئی ہیں،مقدمے کی تفتیش پولیس اور ایف آئی اے مشترکہ طور پر کریں گے،مقدمے میں ملوث افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے میں بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے متنازع ویب سائٹ پیجز کے ریکارڈ کے لیے فیس بک انتظامیہ سے رابطہ کرلیا ہے،سیکرٹری داخلہ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو تحقیقات کے لیے خصوصی ٹاسک بھی دے دیا ہے،پولیس،ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے پیشرفت سے متعلق کارگردگی رپورٹ بھی تیار کرلی ہے۔اس پرجسٹس شوکت صدیقی نے عدالت میں وزیراعظم کا حلف پڑھ کر سنایا اورسیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ سوشل میڈیا پر تمام متنازعہ بیان وزیراعظم کو بھجوایا جائے اور اگر اس معاملے میں وزیراعظم کو عدالت طلب کرنا پڑا تو طلب کریں گے،جسٹس شوکت صدیقی نے کہا ان کے نزدیک گستاخانہ مواد پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کے بعد کیس کی سماعت تیرہ مارچ تک ملتوی کردی گئی۔