Cloud Front
Ch-Nisar-Ali-Khan

وزیرداخلہ کی سوشل میڈیا پر متنازعہ مواد کیخلاف حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت

ایف آئی اے نے اعلیٰ عدالتی شخصیت کی جعلی تصویر شائع کرنے کی رپورٹ بھی پیش کردی
سوشل میڈیا آزادی کیساتھ جھوٹ کا پرچار کر رہا ہے ،افسوس !فیس بک انتظامیہ اور امریکی حکومت کو معاملے کی حساسیت کا اندازہ نہیں ،چوہدری نثارعلی خان

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے سوشل میڈیا پر معزز ججوں کی کردار کشی کو روکنے اور متنازعہ مواد شائع کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو 3 دن کے اندر جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کردی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چوہدری نثار نے وزارت داخلہ کے عہدیداران کو ہدایات دیں کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)کے ساتھ مل کر ایسا نظام وضع کریں جس سے آزادی اظہار رائے پر قدغن نہ لگے اور ساتھ ہی کوئی اس نظام کا غلط استعمال بھی نہ کرسکے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے)کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک اعلی عدالتی شخصیت کی جعلی تصویر کے ذریعے بدنامی کیے جانے کے معاملے کی رپورٹ وزیر داخلہ کو پیش کی گئی۔بیان کے مطابق وزیر داخلہ نے فیس بک کی جانب سے جعلی تصویر پوسٹ کرنے والے افراد سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے سے انکار پر برہمی کا اظہار کیا، جب کہ اس معاملے پر امریکی حکومت سے بھی رابطہ کیا گیا۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اظہار رائے کی آزادی کے بجائے آزادی کے ساتھ جھوٹ کا پرچار کر رہا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ فیس بک انتظامیہ اور امریکی حکومت کو معاملے کی حساسیت کا اندازہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کمپنی کو اظہار رائے کی آزادی کی پالیسی کے تحت نہ تو اعلی شخصیات کو متنازع بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی کو کسی کی کردار کشی کرنے کے لیے سوشل میڈیا کااستعمال کرنے کا حق دیا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایات کیں کہ فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ کے مقامی ورژن متعارف کرانے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیز سے رابطہ کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی ہدایات کیں کہ کسی بھی شخصیت کو متنازع بنانے سے متعلق مواد کے پھیلا کو روکنے کے لیے مثر حکمت علمی بنائی جائے۔