Cloud Front

عمران خان کو غدار کہنے پر مراد سعید آپے سے باہر،جاوید لطیف کو مکا دے مارا

چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے لیڈر اور ہمارا فخر ہیں ان کو غدار کہنا برداشت نہیں ،مراد سعید کی میڈیا سے گفتگو
ملکی معاملات،عزت خراب کرنے اور پھٹیچر الفاظ استعمال کرنیوالے غدار ہیں، جس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا وہ اپنے بڑوں کیا عزت کرتے ہوں گے، جاوید لطیف

اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس کا احاطہ مچھلی بازار بن گیا،عمران خان کو غدار کہنے پر مراد سعید سیخ پا ہوگئے اور جاوید لطیف کو مکا دے مارا۔اراکین اسمبلی نے درمیان میں بیچ بچاؤ کرادیا۔ جمعرات کے روز قومی اسمبلی اجلاس کے دوران جب پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی مراد سعید نے عوامی اہمیت سے بات شروع کی تو ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے ان کا مائیک بند کرتے ہوئے بات جلدی ختم کرنے کی ہدایت کی جس پر پی ٹی آئی کے اراکین برہم ہوگئے رکن اسمبلی مراد سعید نے کہاکہ یہ عوامی اہمیت کا مسئلہ ہے مگر ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ پنجاب کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار ہیں جس کے بعد مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف نے عوامی اہمیت پر بات کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو غدار وطن قرار دیاجس پر پی ٹی آئی کے اراکین نے شدید احتجاج کیا اور جواب دینے کا مطالبہ کیا تاہم ڈپٹی سپیکر نے پی ٹی آئی کو وضاحت کرنے کا موقع دینے کی بجائے اجلاس کو ملتوی کر دیاجس پر پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی شدید برہم ہوگئے۔مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف نے کہا کہ عمران خان نے غیر ملکی کھلاڑیوں کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے،ملکی معاملات،عزت خراب کرنے اور ایسے بیانات دینے والے ملک کے غدار ہیں،تحریک انصاف والے اپنے لیڈر کو عقل سکھائیں۔

جس پر تحریک انصاف کے رکن اسمبلی مراد سعید سیخ پا ہوگئے اور دونوں اراکین اسمبلی کے درمیان نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی حتی کہ ایوان سے باہر نکلتے وقت مراد سعید نے جاوید لطیف کو مکا رسید کر دیا۔اس موقع پر موجود اراکین اسمبلی نے بچ بچاؤ کرایا اور معاملے کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا گیا جبکہ اسمبلی میں مراد سعید کی ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کے ساتھ بھی تلخ کلامی ہوئی۔بعد ازاں مراد سعید نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پنجاب کے اندر پختونوں کی شکایات کا معاملہ اٹھایا اور اس کا ازالہ کرنے سمیت وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے پختون مخالف بیانات پر کارروائی کا مطالبہ کیا لیکن ڈپٹی سپیکر نے مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا جس کی وجہ سے میں نے اپنی بات جلدی مکمل کی لیکن جاوید لطیف کو بولنے کی مکمل اجازت دی گئی جس میں اس نے عمران خان کو غدار کہا اور بعدمیں گالیاں بھی دیں۔

بعد ازاں مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کو نہیں بلکہ عمران خان کو غدار کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے لیڈر اور ہمارا فخر ہیں ان کو غدار کہنا کبھی برداشت نہیں کرسکتے،البتہ جاوید لطیف کو چاہئے کہ عمران خان کو غدار کہنے کے بجائے اپنے غداروں کے خلاف بولیں۔دوسری جانب جاوید لطیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر بات کہے بغیر ہی حملہ کردیاگیا جس سے دل آزاری ہوئی ہے،مراد سعید جھوٹ بول رہے ہیں میں نے کسی کو گالی نہیں دی البتہ غیر ملکی کھلاڑیوں پر عمران خان کے بیان کی مذمت اور اس پر تنقید کی ہے،جس پر مراد سعید نے انتہائی نازیبا عمل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مجھ جیسے بڑے پر ہاتھ اٹھا سکتے ہیں تو وہ اپنے بڑوں کا بھی لحاظ نہیں کرتے ہوں گے حالانکہ میں نے خود ان کو کئی بار سمجھایا کہ بیٹا ایسا رویہ نہیں اپناتے بلکہ صبر وتحمل سے بات چیت کرنی چاہئے