Cloud Front
PCB

پی سی بی انتظامیہ نے اختیارات کے ناجائز استعمال مثال قائم کردی

بااثر نوجوان کونازیبا حرکتوں سے روکنے والے سیکورٹی اہلکار کی تنخواہ روک لی گئی،ساتھی اہلکاروں نے احتجاجاً کام چھوڑ دیا ، سیکیورٹی نظام مفلوج
ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ نے تحقیقات کیلئے معاملہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (سہولیات) کو بھجوا دیا ، انکوائری کا حکم جاری

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان سپورٹس بورڈ انتظامیہ نے اختیارات کے ناجائز استعمال مثال قائم کردی،بااثر نوجوان کونازیبا حرکتوں سے روکنے والے سیکیورٹی اہلکار کی تنخواہ روک لی گئی،ساتھی اہلکاروں نے احتجاج کرتے ہوئے کام چھوڑ دیا جس کے باعث سپورٹس بورڈ کا سیکیورٹی نظام مفلوج ہو کررہ گیا،ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ نے تحقیقات کے لئے معاملہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (سہولیات) کو بھجواتے ہوئے معاملے کی انکوائری کا حکم جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق سپورٹس بورڈ سیکیورٹی کنٹرول روم کو وائرلیس پر اطلاع موصول ہوئی کہ ایک مشکوک گاڑی اِدھر اْدھر چکر لگانے کے بعد ادارے کے اندر ایک اندھری جگہ پر کھڑی کر دی گئی ہے۔موقع کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کنٹرول روم میں ڈیوٹی پر موجود اہلکار شاکر اشفاق اور نائٹ شفٹ میں سیکیورٹی سپروائزر کی ڈیوٹی پر موجود وسیم احمد مغل موقع پر پہنچے اور ایک اوباش لڑکی اور لڑکے کو نازیبا حرکات کرتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران اوباش جوڑے نے دھمکی دی کہ وہ پی ایس بی ایمپلائزیونین کے سیکرٹری جنرل محمد اکرم بھٹی کے دوست ہیں اور انہیں کی دعوت پر ادارے کے احاطے میں آتے ہیں۔دونوں کو سیکورٹی آفس لایا گیا اس دوران لڑکے نے محمد اکرم بھٹی کو فون پر تفصیلات سے آگاہ کیا،

جو نہی ملزمان کو سیکورٹی آفس لایا گیا محمد اکرم بھٹی نے ایک درجن دوستوں کے ہمراہ سیکورٹی آفس پر دھاوا بول دیا ناجائز میں معروف اوباش نوجوانوں کو پکڑنے والے سیکورٹی اہلکار شاکر اشفاق کو ننگی گالیاں دیں اور خطر ناک نتائج کی دھمکیاں دیں۔محمد اکرم بھٹی نے سیکیورٹی افسر کے سامنے درجنوں ایمپلائز اور سکورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں دھمکی دی کہ اگر آئندہ کسی سیکورٹی اہلکار نے ہمارے دوستوں کو اس ادارے کی حدود میں نازیبا حرکات سے روکا تو نہ صرف اسے نشان عبرت بنا دیا جائے گا بلکہ سیکورٹی آفس کو ہی تالا لگا دیا جائے گا۔سیکورٹی اہلکار شاکر اشفاق نے اگلے ہی دن تفصیلی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ کو ارسال کی اور مطالبہ کیا کہ ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور بہترین سیکورٹی سسٹم کو فلاپ کرنے والے ایملائز کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ نے تحقیقات کے لئے معاملہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (سہولیات)کو بھجوادیا۔جو فرض شناس سیکورٹی اہلکار کو راضی نامہ کر نے پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔دوسری جانب اس تمام تر واردات کے مرکزی ملزم محمد اکرم بھٹی پاکستان سپورٹس بورڈ میں اکاؤنٹنٹ (پے اینڈ پش)کی حثیت سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔مورخہ 04جنوری 2017کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر (ایڈمن)نے فائل نمبر(Adm)F۔41۔17/2017۔پی ایس بی کے تحت 92ڈیلی ویجز ملازمین کی ماہ دسمبر 2016کی مبلغ 14,43,902/۔روپے تنخواہ ڈی جی /پی ایس بی کی منظوری سے اکاؤنٹس سکس کو بھجوائی جس میں فرض شناس سیکورٹی شاکر اشفاق کی مبلغ15,764/۔روپے تنخواہ شامل ہیاور اس کا نام سریل نمبر 55پر موجود ہے۔تمام قوائد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اور ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ کی تحریری منظوری کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہوئے۔شاکر اشفاق کی ماہ دسمبر کی تنخواہ روک دی اور اب جبکہ ڈیلی ایجز ایمپلائز بشمول شاکر اشفاق تمام کو جنوری 2017کی تنخواہ بھی ادا کردی گئی ہے۔ایک ایملائز اور فرض شناس سیکورٹی اہلکار کی تنخواہ محمد اکرم بھٹی نے روک رکھی ہے۔سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان سپورٹس بورڈ کے سیکورٹی سسٹم کو بلاشبہ مثالی قرار دیا جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی افراد بھی بلا خوف و خطرہ اس ادارے کی حدود میں گھومنا فخر محسوس کرتے ہیں۔تاہم تقریباً چالیس روز قبل رونما ہونے والے ایک اہم واقع نے پی ایس بی کے انتہائی موثر سیکورٹی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔اس واقع کے بعد سے سیکورٹی اہلکاروں نے اپنے کا م میں دلچسپی چھوڑ دی ہے۔انتظامیہ کی بے حسی کی وجہ سے مستقل قریب میں سیکورٹی کے حوالے سے کوئی بڑا واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ذمہ داران کو واقعہ کافوری نوٹس لینا چاہئے تاکہ پی ایس بی کے سیکورٹی سٹاف کو تحفظ فراہم کر نے کی یقین دہانی کر واکر سیکورٹی سسٹم کو تباہی سے بچایا جاسکے