Cloud Front
national-assembly

فوجی عدالتیں توسیع بل: قومی اسمبلی میں 28 ویں ترمیمی بل پیش

پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم اور جے یو آئی (ف) کا اعتراض،بل کو واپس پارلیمانی کمیٹی بھجوانے کا مطالبہ
تمام سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کو دور کریں گے، سپیکر قومی ا سمبلی ایاز صادق

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں کی معیاد میں دو سال توسیع کرنے کے حوالے سے آئین میں اٹھائیسویں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا اسمبلی میں پیپلز پارٹی ، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور ایم کیو ایم کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی جماعتوں کو اس بل پر کچھ اعتراضات ہیں جنہیں پارلیمانی رہنماؤں کی کمیٹی کے اجلاس میں دوبارہ بھیج کر حل کیا جائے ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ترمیم کے بل کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کو دور کیا جائے گا ۔ جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے فوجی عدالتوں کی دو سال کیلئے توسیع کے حوالے سے آئین میں اٹھائیسویں ترمیم کا بل پیش کیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جن دہشتگردوں کیخلاف سنگین الزامات تھے ان کے کیسز عوامی عدالتوں میں بھیجا گیا تھا اب آئین کی اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے 2015ء میں کئے گئے اقدامات کی توسیع ہوجائے گی اکثر جماعتوں کی جانب سے اس بل کی حمایت کی ہے اور اس کے باوجود بھی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایوان نے آرمی ایکٹ میں مزید توسیع کا بل پیش کیا ہے اس میں کوئی شق نہیں ملک طویل عرصہ سے دہشتگردی کا شکار رہا ہے مسلح افراد نے ریاست کیخلاف اسلحہ اٹھایا ہوا ہے یہ مسئلہ پورے ملک کا ہے دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں اگر کوئی دہشتگرد ریاست کو چیلنج کرتا ہے تو ریاست کا کام ہے اس سے نمٹے لیکن اس تاثر کو زندہ رکھا جاتا ہے کہ جب بھی دہشتگردی کا ذکر آتا ہے تو اسے مذب یا دینی تعلیم فراہم کرنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تمام مکاتب فکر کے لوگ اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پارلیمنٹ میں قانون پاس کیا جائے جب دو ماہ قبل آرمی پبلک سکول کے واقعہ کے بعد ان مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھیجنے کیلئے قانون سازی کی گئی اب وقت آگیا تھا کہ دو سالوں کے اندر ان اداورں کو تحفظ اور بہتر کیا جائے گا اور یہ عدالتیں ختم نہیں کی جائینگی لیکن دو سالوں کے گزرنے کے باوجود ان اداروں کو تحفظ دینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے لاہور ہو ،

چار سدہ ہو یا دیگر علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد دوبارہ ملٹری کورٹس کی توسیع کی بات کی گئی ایک رائے ہے کہ ملٹری کورٹس کو توسیع دی جائے دوسری رائے یہ ہے کہ سویلین کورٹ ناکام ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شاہد ملٹری کورٹس بھی ناکام رہے انہوں نے کہا کہ فوج نے قربانیاں دی ہیں حکومت ان کی خدمات کرتی رہی ہے لیکن یہ محض آیا خدمات حاصل کرنا ہے یا فوج کو ا ختیار دینا ہے ان دونوں چیزوں میں واضح فرق ہے یہ قانون کسی امتیاز کے بغیر ہونا چاہیے اور قانون ہر جگہ یکساں ہو جب قانون امتیاز کا تاثر دیتا ہے اس سے یہ تاثر اجاگر ہورہا ہے کہ یہ قانون مذہبی اور مدارس کے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ طالبان اسلام کا نمائندہ نام نہیں ہے اور ہم جو پارلیمنٹ میں جو بیٹھے ہیں وہ نمائندہ ہیں بلوچستان میں بھی لوگ پہاڑوں پر بیٹھے ہیں اور کراچی میں لوگ دہشتگردی میں ملوث ہیں اور صرف مذہب کا نام لینا درست عمل نہیں ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قانون میں جو مذہب کا تاثر دینے کیلئے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں انہیں نکالا جائے تاکہ قانون سے امتیازی سلوک نظر نہ آئے انہوں نے کہا کہ مدارس کا آڈٹ کا نظام موجود ہے اور وہ این جی اوز کے تحت ہی رجسٹرڈ ہوتی ہیں اور اگر جو مدارس رجسٹریشن نہیں کراتی ان کیخلاف اقدامات لئے جائیں یا ان کی رجسٹریشن کرائی جائے انہوں نے کہا کہ امتیازی طور پر قانون کا استعمال ٹھیک عمل نہیں ہے پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر عذرا فضل نے کہا کہ یہ امتیازی قانون ہے اور اس پر ہماری پارٹی کو تشویش ہے اور اس قانون کو سیاسی طور پر استعمال ہونے کا خطرہ بھی ہے جبکہ پیپلز پارٹی دو سال کیلئے اس قانون کو لانے کی مخالف ہے

اس کو ایک سال کیلئے لانا چاہتی ہے قانون میں کافی کمزوریاں موجود ہیں اور جو خدشے بھی موجود ہیں ان کو دور کیاجائے انہوں نے کہا کہ کورٹ سے سزا پانے والوں کو اپیل کا حق دیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قانون کو دوبارہ متعلقہ کمیٹی میں بھیجا جائے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کی جماعت اور ایم کیو ایم کو اس حوالے سے جو تحفظات ہیں انہیں دیکھا جائے گا ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی شیخ صلاح الدین نے کہا کہ کمیٹی میں فیصلہ ہوا تھا کہ جو تحفظات ہیں ان کو ترمیم کی صورت میں لایا جائے گا انہوں نے کہا کہ ہمیں انتہا پسندی کو روکنا ہوگا اور اس حوالے سے پراسکیوٹرز گواہان اور دیگر متعلقہ لوگوں کو اگر تحفظ فراہم کیاجاتا تو ایک مرتبہ دوبارہ اس قانون کو لانے کی نوبت نہ آتی انہوں نے کہا کہ ہمیں موجودہ قانون پر اعتراضات ہیں ترمیمی بل کی تفصیل کے مطابق منظوری کی صورت میں ایکٹ پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2017ء کے نام سے ہوگا جو فی الفور نافذ العمل ہوگا اور اسے سات جنوری دو ہزار سترہ سے موثر تسلیم سمجھا جائے گا اور دو سال تک اس کا عملدرآمد ہوگا ۔

ایکٹ کے تحت قائم شدہ فوجی عدالتوں میں زیر التواء تمام مقدمات انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت قائم شدہ عدالتوں کو منتقل کرنا متصور ہونگی ترمیمی بل کے تحت کوئی شخص جو کسی مذہب یا فرقے کا نام استعمال کرکے یا ریاست کیخلاف دہشتگردی کے سنگین اور متشدد فعل کا ارتکاب کرکے دہشتگردوں یا تنظیم سے تعلق کا دعوہ کرے یا تعلق سے پہچانا جائے ، پاکستان کیخلاف ہتھیار اٹھائے یا جنگ کرے ، پاکستان کی مسلح افواج ، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، عدلیہ ، سرکاری ملازمین یا شہریوں پر حملہ کرے یا کسی پاکستانی شہری یا فوجی تنصیبات پر حملہ کرے تو وہ اس کے دائرہ کار میں آئے گا ترمیم کے مطابق تاوان کیلئے کسی شخص کو زخمی کرے یا اس کا موت کا موجب بنے دھماکہ خیز مواد ، خود کش جیکٹس رکھنا یا انہیں تیار کرنا یا اس کا استعمال کرے یا دہشتگردی کے لئے گاڑیوں کا استعمال کرے مذہبی اقلیتوں کو دھمکائے اسے اس ایکٹ کے تحت سزا ہوگی