Cloud Front

قومی اسمبلی اجلاس:تحریک انصاف کا جاوید لطیف کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ

پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی اراکین کا ایوان سے واک آؤٹ،کورم پورا نہ ہونے سے اجلاس30 منٹ تک ملتوی
نواز شریف کو کبھی غدار نہیں کہا اگرکسی نے کہا تو اس کی مذمت کرتے ہیں،پٹھان گولی کھا سکتا ہے گالی نہیں دے سکتا،گالی دینے والے اراکین کیخلاف کارروائی کی جائے،علی محمد خان
نازیبا الفاظ ادا کرنے پر الطاف حسین کو غدار قرار دیا جا سکتا ہے تو عمران کو کیوں نہیں، جاوید لطیف
ہم سب کھیلوں سے واقف ہیں،کھلاڑیوں کیخلاف پھٹیچر کا لفظ برداشت نہیں کرینگے، دست گریباں کی روایت کو ختم ہونا چاہیے، خواجہ سعد رفیق

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے ایوان میں تحریک انصاف کے ارکان ڈاکٹر عارف علوی اور علی محمد خان نے مراد سعید کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی ذمہ داری جاوید لطیف پر عائد کرتے ہوئے ان کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کارروائی سے واک آؤٹ کیا جس کی حمایت میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے واک آؤٹ کیا جبکہ پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی نے کورم کی نشاندہی کی تو کورم پورا نہ ہونے کے باعث آدھے گھنٹے سے زائد دیر تک اجلاس ملتوی رہا ۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اسمبلی کے ماحول کو خراب کرنے کیلئے ہمارے رکن اسمبلی مراد سعید کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی ہے ۔

وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ اس حوالے سے سپیکر نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ جاوید لطیف نے عمران خان کو غدار کہا او رباہر جا کر کہا کہ میں نے آپ کو نہیں بلکہ آپ کے لیڈر کو کہا ہے انہوں نے مراد سعید گھر کے حوالے سے قابل اعتراض باتیں کی ہیں رکن پارلیمنٹ ڈ اکٹر شیریں مزاری اور دیگر خواتین کیلئے قابل اعتراض ایوان میں باتیں کی گئی تھی انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ جاوید لطیف کی اسمبلی رکنیت کو معطل کیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ شاہد گل آفریدی اس واقعہ کے حوالے سے اہم گواہ ہیں ۔ ڈپٹی سپیکر نے مراد سعید کو آٹھ منٹ سے زائد بات کرنے دی لیکن ان کی جانب سے مجھ سے جو رویہ رکھا گیا وہ غیر مناسب تھا ان کے بعد جاوید لطیف کو بعد میں بات کرنے دی جو اس سیٹ پر بیٹھتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے وہ ماحول کو خراب نہ ہونے دے تحریک انصاف کے علی محمد خان نے کہا کہ اس ایوان میں تندوتیز جملے بولے جارہے ہیں لیکن گزشتہ روز اس ایوان میں جو باتیں ہوئی اس کے بعد باہر ماحول خراب ہوا مراد سعید اپنی آخری کوشش تک حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کی ۔ حزب اختلاف اور حکومتی کمیٹیوں میں پاکستانی ہی بیٹھے ہیں ہمارے طرف سے کسی نے وزیراعظم نواز شریف کو غدار نہیں کہا اگر کسی نے کہا میں اس کی مذمت کرتا ہوں اگر کسی نے بھی کسی کو غدار کہا ہے اس الفاظ کو کارروائی سے حذفکیا جائے پختون گولی کھاتا ہے مگر گالی نہیں دیتا انہوں نے مطالبہ کیا کہ جاوید لطیف کو معطل کیا جائے جن مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے گالیاں دی ہیں ان کے کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تحریک انصاف کے افراد نے واک آؤٹ کیا اور ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے ارکان بھی باہر نکل گئے جاوید لطیف نے کہا کہ نازیبا الفاظ عمران خان استعمال کرتے ہیں اس طرح کے الفاظ پر الطاف حسین کو غدار قرار دیا جاتا ہے

تو ان کو کیوں غدار نہیں کہا جاسکتا پیپلز پارٹی کی رکن شگفتہ جمانی نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر گنتی ہوئی تو کورم پورا نہ ہونے پر مرتضی جاوید عباسی نے اجلاس کچھ وقت کیلئے ملتوی کردیا جس پر سعد رفیق نے کہا کہ اس کے باوجود ہمیں مسلم لیگ (ن) والے ایوان میں بیٹھ سکتے ہیں اس طرح کے کھیلوں سے ہم واقف ہیں عمران خان اس ملک کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے وہ کہتے ہیں اگر مراد سعید کی جگہ وہ ہوتے تو اس سے بھی زائد رویہ کرتے عمران خان نے کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہا جو ناقابل قبول ہے شاہد گل آفریدی نے کہا کہ ایوان میں ایک دوسرے کیخلاف غلط زبان استعمال نہ کی جائے سعد رفیق نے کہا کہ ایوان میں دست وگریبان کی جو روایت ڈالی گئی اسے ختم کرنا چاہیے اس طرح کا سلسلہ بند ہونا چاہیے شاہد گل آفریدی نے کہا کہ سپیکر نے کمیٹی بنائی ہے اس میں اس مسئلہ کو بخوبی ختم کیاجائے آدھے گھنٹے بعد سپیکر سردار ایاز صادق ایوان میں آئے اور گنتی کرائی تو کورا پورا تھا قبل ازیں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو لوگ عارضی نقل مکانی کرکے دیگر علاقوں میں رہ ر ہے ہیں انہیں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ جس علاقے میں رہ رہے ہیں اس میں ان کی گنتی کی جائے جو غلط عمل ہے نقل مکانی کرنے والوں نے اپنے اپنے علاقوں میں مردم شماری کی جائے ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے متعلقہ حکومتی اداروں کو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کی ہدایات دی.