Cloud Front

مالیاتی سکینڈل،یو بی ایل کی اعلیٰ منیجمنٹ اور سی ای او گرفتار، نوکریوں سے فارغ

ایچ بی ایل کی سیما کامل کا وجاہت حسین کی جگہ تقرر
تفتیش جاری، آئندہ چند روز میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا بھی امکان

تحقیقاتی اداروں نے 160 سے زائد بنکاروں کیخلاف ٹھو س شواہد حاصل کرلئیے،چند روز میں بڑے پیمانے پرگرفتاریوں کاامکان

اسلام آباد : ملک میں ایک اوربڑ ے مالیاتی سکینڈل کاانکشاف ہوا ہے۔یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ اورنیشنل بنک آف پاکستان کے اعلیٰ افسران نے ملکی بھگت کرکے قومی خزانے سے 12ارب روپے اپنی جیبوں میں ڈال لئیے۔تحقیقاتی اداروں نے سٹیٹ بنک آ ف پاکستان سمیت یوبی ایل اورنیشنل بنک کے 160 سے زائد بنکاروں کیخلاف ٹھو س شواہد حاصل کرلئیے۔چند روز میں بڑے پیمانے پرگرفتاریوں کاامکان ہے۔مصدقہ ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یوبی ایل کے چیف ایگزیکٹو افیسروجاہت حسین اس وقت سوئٹزر لینڈ میں ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے گئے ہوئے ہیں۔ یوبی ایل انتظامیہ کے ان کی جگہ ایچ بی ایل کی اعلیٰ عہدیدار سیماکامل کی خدمات حاصل کرلیں۔ملک کے ایک اور بڑے مالیاتی سکینڈل میں یونائٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) کی اعلی منیجمنٹ اور سی ای او کو گزشتہ رات حراست میں لے لیا گیا اور انہیں نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایچ بی ایل کی سیما کامل کو وجاہت حسین کی جگہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 12ارب کے سکینڈل میں یو بی ایل کے صدر کو فارغ کردیا گیا ہے اور 160بینکاروں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ نیشنل بینک آف پاکستان اور دیگر بینک اس سکینڈل میں ملوث ہیں۔ یو بی ایل کے صدر کو دیگر بینکاروں کے ہمراہ ملک سے باہر جانے کیلئے طیارے میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔ دریں اثنااس حوالے سے یو بی ایل کی انتظامیہ سے موقف کے لئے رابطہ کیا گیا تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا جبکہ نیشنل بینک انتظامیہ کی طرف سے بھی کوئی موقف نہیں دیا گیاہے۔

ذرائع کا کہناہے کہ تحقیقاتی ادارے تیزی کے ساتھ تفتیش کے عمل کو آگے بڑھارہے ہیں اور آئندہ چند روز میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔ 12ارب روپے کے اس سکینڈ ل کو چھپانے کیلئے12ارب روپے کے سکینڈل کو چھپانے کے لئے یو بی ایل اور نیشنل بینک انتظامیہ نے دانستہ طور پر خاموشی اختیار کررکھی ہے تاکہ کسی طریقے سے اس معاملے کو دبایا جاسکے دوسری طرف ایک تحقیقاتی ایجنسی کے مصدقہ ذرائع نے بتایا ہے کہ 12ارب روپے کے سکینڈل میں مسروقہ دونوں بینکوں کے 160اہلکاروں کے ملوث ہونے کے بھی شواہد ملے ہیں اس کی کڑیاں سٹیٹ بینک کے کئی اہم عہدیداروں سے بھی ملتی ہیں چونکہ تحقیقات سائنٹفک انداز میں کی جارہی ہیں اس لیے ان کوصیغہ راز میں رکھا جارہا ہے۔یو بی ایل انتظامیہ اور نیشنل بینک انتظامیہ کی طرف سے اس سکینڈل پر خاموشی کو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے تحقیقاتی ایجنسی کے اہم عہدیدار کا کہنا ہے کہ چند روز میں متذکرہ دونوں بینکوں کے کئی افسروں کو حراست میں لے لیا جائے گا واضح رہے کہ اس سے قبل نیشنل بینک آف پاکستان نے 18ارب روپے کا ایک مالیاتی سکینڈل بھی سامنے آچکا ہے جس کی تحقیقات نیب میں جاری ہے اورنیب تاحال ملزمان کے خلاف ریفرنس عدالت میں دائر نہیں کرسکاہے۔اس فراڈ میں بنگلہ دیش میں نیشنل بینک کے تعینات افسران ملوث تھے اور انہوں نے بغیر کسی گارنٹی کے بنگلہ دیشی شہریوں کو 18ارب روپے کے قرضے دیکر اپنا حصہ وصول کرلیا تھا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اس حوالے سے کئی مرتبہ نیب اور تحقیقاتی اداروں کو ہدایات جاری کرچکی ہے کہ اس معاملے میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔قومی بینکوں کی طر ف سے قومی دولت لوٹنے کی داستانیں معمول بن چکا ہے۔جس کی وجہ سے لوگ بینکوں پراپنا اعتماد کھوتے جارہے ہیں۔ یوبی ایل انتظامیہ اورنیشنل بنک آف پاکستان کی انتظامیہ اس سکینڈل کے حوالے کچھ بھی بتانے سے گریزاں ہیں۔ متعد د بار رابطہ کرنے کے باوجود دنوں بینکوں کی جانب سے کچھ نہیں بتا یاجارہا۔

جبکہ دوسری جانب یو بی ایل کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے انہوں نے کہا مینجمنٹ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے