Cloud Front
Ishaq Dar

ڈان لیکس کمیشن رپورٹ سابقہ رپورٹس کی طرح خفیہ نہیں ہو گی، اسحاق ڈار

منفی اور گھٹیاں سیاست کو نہ چھوڑنا ہماری بد قسمتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ سے معلومات کے تبادلے کا معاہدہ ہو چکا
سوئس بینکوں میں اکاؤنٹس رکھنے والے چند افراد کی معلومات لی جائیں گی۔ فی الحال نام ظاہر نہیں کر سکتے، وزیر خزانہ

اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کمیشن رپورٹ سابقہ رپورٹس کی طرح خفیہ نہیں ہو گی۔ اسے فوری شائع اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہو گی۔ منفی اور گھٹیاں سیاست کو نہ چھوڑنا ہماری بد قسمتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ سے معلومات کے تبادلے کا معاہدہ ہو چکا۔ سوئس بینکوں میں اکاؤنٹس رکھنے والے چند افراد کی معلومات لی جائیں گی۔ فی الحال نام ظاہر نہیں کر سکتے۔ جمعہ کے روز نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جسٹس (ر) عامر رضا کی سربراہی میں ڈان لیکس کمیشن اپنا کام کر رہا ہے کمیشن نے ابھی تک رپورٹ وزیراعظم کو پیش نہیں کی، امید ہے کمیشن اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کر دے گی۔

ڈان لیکس کمیشن کی رپورٹ کا حشر ماضی میں بننے والے کمیشن محمود رحمن کمیشن، ایبٹ آباد کمیشن جیسا نہیں ہو گا۔ رپورٹ ملتے ہی ملوث افراد کے خلاف فی الفور کارروائی ہو گی اور رپورٹ کو عوام تک رسائی کے لئے شائع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ہم منفی اور گھٹیا سیاست کو نہیں چھوڑ رہے۔ نعیم الحق یا عمران خان کے پاس سوئس اکاؤنٹ سے متعلق نام ہیں تو ہمیں دیں۔ حکومت اقدامات کرے گی۔ سوئس حکومت کہتی تھی کہ ہمارے قانون کے تحت ہم کسی کی خفیہ معلومات کسی کو فراہم نہیں کر سکتے مگر ہم نے سوئس حکومت کو کہا کہ دنیا بدل رہی ہے ہمارے ساتھ نیا معاہدہ کریں۔ سوئٹزر لینڈ سے نیا معاہدہ 21مارچ 2017ء کے بعد نافذ العمل ہو گا۔ معاہدے کے بعد سوئس حکومت انفارمیشن دینے سے انکار نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ 60سال سے کسی میں بھی ہمت نہیں ہوئی کہ سوئٹزرلینڈ سے معلومات کے تبادلے کے لئے دوبارہ معاہدے کرے۔ حکومت کے پاس کچھ لوگوں کے نام ہیں مگر فی الحال نام ظاہر نہیں کر سکتے۔ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ میں ہونے والے واقع پر افسوس ہے۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے معاملات چل رہے تھے۔ پہلے انہوں نے پارلیمنٹ میں لڑائی کی پھر سپریم کورٹ کے باہر اور اب پھر یہ واقع رونما ہو گیا۔ وزیراعظم نے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو صبر و تحمل سے چلنے کی ہدایت کی ہے اور اس پر عمل پیرا ہیں۔