Cloud Front
SUprem Court

ججز کی تعداد بڑھانا اور فنڈز فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ

مقدمات کے التواء میں ججوں اورعدلیہ کو الزام نہ دیا جائے، معیاری انصاف کی فراہمی کے لئے ضروری ہے کہ ججوں کی کمی کو دور کیا جائے،تقریب سے خطاب
نصاف کی فراہمی کے بغیرملک میں بہتری ممکن نہیں،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

لاہور: سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ مقدمات کے التواء میں ججوں اورعدلیہ کو الزام نہ دیا جائے، ججز کی تعدادبڑھانا اور فنڈز فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔پنجاب جوڈیشل اکیڈمی لاہور میں ماڈل فوجداری نظام عدل کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں ججز اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ججز اپنی استعداد سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں، معیاری انصاف کی فراہمی کے لئے ضروری ہے کہ ججوں کی کمی کو دور کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو علم نہیں کہ عدلیہ میں لمبی لمبی تاریخیں کیوں پڑتی ہیں اور مقدمات کیوں التواء کا شکار رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی عدلیہ میں اٹھارہ لاکھ مقدمات زیر التواء ہیں جبکہ چار ہزار ججز اپنی استعداد سے بڑھ کر انصاف فراہم کر رہے نہیں۔انہوں نے کہا کہ ججز کی کمی اور مقدمات کی زیادتی کے باعث بروقت انصاف کی فراہمی ممکن نہیں، ججز کی تعداد بڑھانا، عدلیہ کو فنڈز اور سہولیات فراہم کرنا عدلیہ نہیں بلکہ انتظامیہ کا اختیار ہے لہذا مقدمات لٹکانے کا الزام عدلیہ اور ججز پر نہ لگایا جائے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے بغیرملک میں بہتری ممکن نہیں۔

فوجداری نظام عدل کی بہتری اور زیر التواء مقدمات نمٹانے کے لئے اصلاحات نافذ کر دی گئیں ہیں۔چیف جسٹس نے بتایا کہ فوجداری مقدمات نمٹانے کے لئے ماڈل نظام وضع کیا گیا جس کے تحت چار ماڈل اضلاع کے سیشن جج اٹک سہیل ناصر،، سیشن جج نارووال راجا غضنفر،،، سیشن جج ویاڑی سعیداللہ اور سیشن جج چنیوٹ ظفر اقبال کی انتھک محنت سے ایک ماہ میں نو سو چالیس فوجداری مقدمات کا ٹرائل مکمل کیا گیا جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ مقدمات نمٹانے کی تعداد مقدمات دائر کرنے ے بڑھ گئی ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سول ججوں کی بھرتی کے امتحانی کورس کو سی ایس ایس کے برابر کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔چیف جسٹس نے تیز ترین ٹرائل نمٹانے میں تعاون کرنے والے ججز،، وکلاء ، پولیس ،،،جیل عملے اور فرانزک سائنس لیبارٹری کے ڈائریکٹر جنرل کا شکریہ ادا کیا۔تقریب کے اختتام پر ماڈل عدلیہ میں ٹرائل نمٹانے والے ججز میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔