Cloud Front
Pervez Musharraf

عجیب وزیردفاع ہے جواپنی ہی فوج کے خلاف باتیں کرتاہے ، پرویزمشرف

بھارت ہٹ دھرمیوں سے بازنہ آیاتواینٹ کاجواب پتھرسے دیناہوگا
بھارت اپنی خارجہ پالیسیوں کے باعث افغانستان کورام کرنے میں کامیاب ہوگیاہے ،نجی ٹی وی کوانٹرویو

اسلام آباد : سابق صدر پرویزمشرف نے کہاہے کہ عجیب وزیردفاع ہے جواپنی ہی فوج کے خلاف باتیں کرتاہے ،بھارت ہٹ دھرمیوں سے بازنہ آیاتواینٹ کاجواب پتھرسے دیناہوگا،بھارت اپنی خارجہ پالیسیوں کے باعث افغانستان کورام کرنے میں کامیاب ہوگیاہے ۔اتوارکے روزنجی ٹی وی کوانٹرویومیں انہوں نے کہاکہ حکومتی پالیسیاں موقع کے حساب سے بنتی ہیں اورتبدیل ہوتی ہیں ۔ہمیں مجاہدین اوردہشتگردوں کے درمیان فرق کرناہوگا۔دنیابھرسے سویت یونین کے خلاف لڑنے کیلئے مجاہدین کولایاگیاتھا،سویت یونین کے خلاف لڑناپاکستان کے مستقبل کے حق میں تھا،عجیب وزیردفاع ہے جواپنی فوج کے خلاف بولتے ہیں ۔خواجہ آصف کااس وقت حکومتی پالیسی کے خلاف بیان غیرذمہ دارانہ ہے ۔وزیردفاع نے غلط وقت پرغلط بیان دیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کوکھوکھلاکرنے والے اصل دہشتگردہیں ۔بھارت کاارادہ ہے کہ پاکستان کوغیرمستحکم کرکے ختم کردیاجائے آئے دن بھارت کی حکومت اوربھارتی فوجی جرنیلزمیڈیامیں بیٹھ کرپاکستان کوختم کرنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ۔

بھارت افغانستان کے راستے دہشتگروں کوپاکستان میں کارروائیوں کیلئے بھیجتاہے ،پاکستان اوربھارت ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک ہیں جن دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ہے ۔بھارت ہٹ دھرمی کرتاہے توبھارت کواینٹ کاجواب پتھرسے دیناہوگا۔انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے موجودہ حالات ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے ،جبکہ دوسری جانب بھارتی پالیسیاں کامیاب ہوئی ہیں جس نے افغانستان کواپنی جانب مائل کرلیاہے ۔بھارت اورافغانستان بہت عرصے سے پاکستان کے خلاف کام کررہے ہیں یہ ان کی ایجنسیاں پاکستان کوتوڑکرگریٹرپختونستان بناناچاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ فوجی عدالتوں پراپنے اپنے مفادات کی سیاست ہورہی ہے ،ان لوگوں کوملک میں امن وامان عزیزنہیں ،اپنی سیاست عزیزہے ،نوازشریف نے مجھ سے فوجی عدالتیں بنوائی تھیں کراچی ملیرکینٹ میں فوجی عدالتیں بنائی تھیں ۔سیاسی عناصرکادہشتگردوں سے گٹھ جوڑتھااورابھی بھی ہے ۔سیاست میں فوج کوکم ازکم ملوث کرناچاہئے ،دہشتگردوں اورشدت پسندوں کے خاتمے کیلئے رینجرزاورایف سی کوزیادہ طاقتورکرناچاہئے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان واپسی کیلئے سازگارماحول اورمددکی ضرورت ہے ،عدالتوں کاپہلے بھی سامناکیااوراب بھی تیارہوں مگرسمجھتاہوں کہ کیس ختم نہیں ہوں گے