Cloud Front
SUprem Court

سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کالعدم قرار

نئے تحریری مسابقتی امتحانات چیئرمین اور ممبران کے تقرر کے فوری بعد کرائے جائیں،سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن از خود نوٹس سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سندھ حکومت کو دو ہفتوں میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کی تقرری اور اہلیت رکھنے والے ممبران کی تقرری چار ہفتوں میں کرنے کا حکم دیدیا ہے ، پیر کے روز جاری ہونے والے محفوظ فیصلہ میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کمیشن کے تحت ہونے والے مسابقتی امتحانات کے نتائج شفاف نہیں تھے، 2013 کے مشترکہ مسابقتی امتحانات کے نتائج کالعدم قرار دیے جاتے ہیں

لیکن امتحان کیلئے لیے گئے اسکریننگ ٹیسٹ کی قانونی حیثیت برقرار رہے گی، عدالت نے حکم دیا گیا ہے کہ نئے تحریری مسابقتی امتحانات چیئرمین اور ممبران کے تقرر کے فوری بعد کرائے جائیں جبکہ نئے امتحان میں اسکریننگ ٹیسٹ پاس کرنے والے 2813 امیدوار ہی شرکت کے اہل ہوں گے ، یا د رہے کہ سپریم کورٹ نے فروری 2017 میں سندھ پبلک سروس کمیشن سے متعلق ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تحری کردہ محفوظ فیصلہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے پڑھ کر سنایا ہے ،سپریم کورٹ نے پبلک سروس کمیشن، ممبران کی غیرقانونی تقرری پر ازخود نوٹس لیا تھا جس پر کمیشن کے چیئرمین اور ممبران مستعفی ہوگئے تھے۔