Cloud Front

ترکی اور ہالینڈ کا سفارتی تنازع مزید شدت اختیار کرگیا

ترکی نے ہالینڈ کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے اور تعلقات معطل کر دیئے
ہالینڈ کے سفیر کو انقرہ واپسی کی اجازت نہیں دیں گے،ترک نائب وزیر اعظم
امر یکہ کا اظہا ر تشویش دونو ں مما لک کو سفارتی تنازع بات چیت سے حل کر نے کی ہدایت

انقرہ : ہالینڈ کے انتخابات کے دوران ترک رہنماؤں کو ریلی نکالنے سے روکے جانے پر شروع ہونے والا تنازع اب مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ترکی نے ہالینڈ کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے اور تعلقات معطل کر دیئے اور کہا ہیکہ ہالینڈ کے سفیر کو انقرہ واپسی کی اجازت نہیں دیں گے۔ترک نائب وزیر اعظم نعمان قرتلمش نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب تک ہالینڈ اپنے اقدامات کی تلافی نہیں کرے گا اس وقت تک اس کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے اور مذاکرات معطل رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ہالینڈ کے سفیر کو انقرہ واپسی کی اجازت نہیں دیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں ہالینڈ اور ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ لفظوں کی جنگ بند کرکے سفارتی تنازع بات چیت سے حل کریں۔محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نیٹو کے اتحادی ہیں اور صدر ٹرمپ اس معاملے پر براہ راست مداخلت نہیں کرنا چاہتے کیونکہ دونوں ممالک میں مضبوط جمہوریتیں موجود ہیں۔ایک ٹی وی انٹرویو میں ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل دہشت گردوں کی مدد کررہی ہیں، ہم نے مشتبہ دہشت گردوں کے حوالے سے جرمن حکومت کو ساڑھے 4 ہزار صفحات پر مشتمل ثبوت پیش کیے ، مگر اس کے باوجود انہوں نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔انہوں نے انجیلا مرکل کی جانب سے ڈچ وزیر اعظم کی حمایت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔دوسری جانب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے طیب اردوان کے الزامات کو نامعقول اور مضحکہ خیز قرار دیا۔ جرمن چانسلر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ الزامات کی اس جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتیں