Cloud Front

لندن کی 40 ہزار قیمتی جائیدادیں کرپٹ اشرافیہ نے منی لانڈرنگ کے ذریعے خرید رکھی ہیں

برطانیہ میں ہر سال 125 ارب امریکی ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے سرمایہ کاری کی شکل میں آتے ہیں ، منی لانڈرنگ روکنے کیلئے برطانوی پارلیمنٹ میں کریمنل فنانس بل پیش کردیا گیا

اسلام آباد : لندن کی 40 ہزار قیمتی جائیدادیں غریب ممالک کے کرپٹ اشرافیہ نے آف شور کمپنیاں بنا کر اور منی لانڈرنگ کے ذریعے خرید رکھی ہیں ، منی لانڈرنگ کے ذریعے جائیدادوں کی خریداری روکنے اور کرپٹ حکمرانوں کی دولت کی تحقیقات کیلئے برطانوی پارلیمنٹ میں نیا قانون بنانے کیلئے بل پیش کیا گیا ہے یہ قانونی بل برطانیہ کی حکمران جماعت اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے امریکی اخبار میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لندن کی 40 ہزار قیتی جائیدادیں آف شور کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں ان کمپنیوں کے مالک غریب ممالک کا حکمران طبقہ ہے جو غریب عوام کی دولت کو لوٹ کر لندن میں جائیدادیں خرید رکھی ہیں اخبار کے مطابق لندن میں ہر سال 125 ارب امریکی ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے آتے ہیں اور منی لانڈرنگ میں بھی غریب ممالک کے حکمران طبقہ اور ان کی اولادیں ملوث ہیں ۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں بن جوزف نے ” Rolls out the kleptoerats carpet London کے عنوان سے ایک مفصل مضمون لکھا ہے جس میں مسلمان ملک کرغزستان کے کرپٹ حکمران اور ان کی اولادوں کی طرف سے لندن میں خریدی گئی قیمتی جائیدادوں اور لندن میں منی لانڈرنگ سے خریدی جانے والی جائیدادوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے کرغزستان کے سابق حکمران کے بیٹے نے لندن میں 4.3 ملین امریکی ڈالر سے فلیٹ خریدا ہے مصنف نے کہا ہے کہ لندن درحقیقت لٹیروں حکمران اور ان کی اولادوں کا ذاتی پرس کی حثیت اختیار کرگیا ہے نیشنل کرائم ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر سال 125 امریکی ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے حکمران غریب عوام کی دولت لوٹ کر لندن میں لگژری زندگی گزارتے ہیں جس سے انگریز قوم بھی ان لوگوں کیخلاف نفرت کے شدید جذبات ہیں مضمون نگار نے مزید لکھا ہے کہ لندن کی چالیس ہزار قیمتی جائیدادوں کے اصل مالکان کا پتہ چلانا مشکل کام ہے کیونکہ ان حکمرانوں نے یہ جائیدادیں بے نامی آف شور کمپنیاں بنا کر خریدی ہیں اور ان کمپنیوں کی رجسٹریشن برطانیہ کی بجائے پیپلز نامی جزیرے کے علاوہ دیگر ممالک اور جزیروں میں رجسٹرڈ ہیں لندن کے قوانین بھی آف شور کمپنیوں کے مالکان کا کھوج لگانے کیلئے ناکافی ہیں کیونکہ یہ جائیدادیں خود کو چھپا کر کرپٹ حکمران خرید کرتے ہیں

مضمون میں لکھا گیا ہے کہ چالیس ہزار جائیدادوں کے مالک میں ہوسکتا ہے کچھ اچھے اور شریف لوگ بھی ہوں لیکن جن افراد نے آف شور کمپیاں بنا کر جائیدادیں خریدی ہیں وہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ہی دولت لندن میں لے کر آئے ہیں برطانیہ کی عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ برطانوی حکومت بھی منی لانڈرنگ کرکے غریب ممالک کو لوٹنے والوں کے ساتھ ہے جو کہ جمہوریت کی روح کیخلاف ہے مضمون میں کہا گیا ہے کہ عوام میں ابھرتے ہوئے جذبات کو دیکھ کر برطانوی پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جو کریمنل فنانس بل کے نام سے پیش مشترکہ طور پر سیاسی جماعتوں کے ممبران نے پیش کیا ہے جس کا مقصد منی لانڈرنگ کے ذریعے لندن کی جائیدادوں کی خریداری روکنا اور غریب ممالک کے حکمران طبقہ کا احتساب کرنا ہے یاد رہے کہ پاکستان کے حکمران طبقہ شریف خاندان نے بھی منی لانڈرنگ کے ذریعے لندن میں کھربوں روپے سے فلیٹس خرید رکھے ہیں