Cloud Front
Corruption

شوگر مافیا سبسڈی کے نام پر قومی خزانہ سے 8ارب 50 کروڑ ڈکار گیا

برآمد کے نام پر اربوں روپے وصول کرکے مقررہ مقدار میں شوگر برآمد بھی نہیں کی ، منصفانہ تحقیقات سے بڑے نام افشاء ہونے کا امکان

اسلام آباد: پاکستان کا سب سے طاقتور شوگرمافیا نے ملک میں چینی مہنگے داموں فروخت کرنے اور برآمد کرنے کے نام پر وفاقی حکومت سے 8 ارب پچاس کروڑ روپے سبسڈی کی مد میں وصول کرچکی ہے ۔ نواز شریف حکومت نے 8ارب 50 کروڑ روپے سبسڈی کی مد میں 2015 اور 2016 میں ادا کئے ہیں جس کی باقاعدہ اجازت ای سی سی سے لی گئی تھی پاکستان میں شوگر مافیا پھر سرگرم عمل ہے اور ملک کی غریب عوام کو لوٹنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ آن لائن کو ذرائع نے بتایا ہے کہ شوگر مافیا کو نواز شریف حکومت نے ابتدائی سال میں شوگر برآمد کرنے کیلئے 13 روپے فی کلو سبسڈی فراہم کی جبکہ حکومت کے دوسرے سال 10 روپے فی کلو گرام سبسڈی کے طور پر فراہم کی گئی تھی شوگر مافیا کو سبسڈی آٹھ ارب پچاس کروڑ روپے دینے کی سمری وزارت تجارت نے ای سی سی کو ارسال کی تھی

جس کی منظوری وزیر تجارت خرم دستگیر نے دی تھی جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس سمری کی فوری اجازت دے کر اربوں روپے شوگر ملز مالکان کو ادا کردیئے شوگر ملز مافیا میں اس وقت ملک کے سیاستدان اور حکمران طبقہ کے افراد شامل ہیں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کی سب سے زیادہ شوگر ملیں ہیں جن کو بھی اربوں روپے ادا کئے گئے ہیں شوگر مافیا کو ابتدائی سال میں دو لاکھ پچیس ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت ملی تھی لیکن شوگر ملز مالکان نے جعلی کلیم داخل کرکے سبسڈی حاصل کرلی ہے لیکن اتنی مقدار میں چینی برآمد نہیں کرسکے شوگر مافیا نے ملک میں چینی کی قلت پیدا کرکے بحران پیدا کیا ہے جس سے ملک کے اندر چینی کی قیمت میں شدید اضافہ ہوا جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے اس حوالے سے آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری عنایت اللہ نے کہا ہے کہ سبسڈی کی مد میں بھاری رقم ملی ہے لیکن اصل رقم ریکارڈ دیکھ کر ہی بتا سکو ں گا