Cloud Front
national-assembly

قومی اسمبلی اجلاس : ہر ضلع میں خواتین یونیورسٹی قائم کرنے کے حوالے سے قرارداد پر بحث

اراکین اسمبلی نے آئندہ بجٹ میں حکومت سے تعلیم کے بجٹ کو بڑھانے کی سفارش کردی
تعلیم کے حوالے سے باتیں کاغذوں تک محدود ہیں ، دانش سکول سسٹم بنایا گیا لیکن عوام کو کوئی سہولیات نہیں دی گئی، جی ڈپی کی شرح بہت کم ہے ، 20 کروڑ کی آبادی میں 50فیصد تعداد خواتین کی ہے مگر خواتین کی یونیورسٹیوں کی تعداد صرف 13 ہے حکومت ملک کے ہر شہر میں ضلع میں یونیورسٹی بنائے، اراکین اسمبلی
ہر ضلع میں یونیورسٹی قائم کرنے سے خواتین زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گی ، شکیلہ لقمان
تعلیم حاصل کرنا ہر مرد و خواتین کا حق ہے جس نے ضلع بونیر میں خواتین کی یونیورسٹی بنانے کی قرارداد پیش کی تھی جس کو منظور کیا گیا تھا اس پر عملدرآمد کروایا جائے، شیر اکبر خان
یونیورسٹیوں کی بہت ضرورت ہے فاٹا کے علاقہ میں خواتین تو دور کی بات مردوں کے لئے کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، غلام احمد بلور
دنیا ہمارے تعلیمی بجٹ پر ہنستی ہے ہمارے ہمسائیوں میں تعلیمی بجٹ بہت زیادہ ہے تمام اراکین کواس پر بات کرنی چاہیے ، اپوزیشن لیڈر
قومیں موٹروے بنانے یا پل بنانے سے نہیں بنتی بلکہ تعلیم اورصحت پر پیسے خرچ کرنے سے معاملات بہتر ہوتے ہیں، ملک احمد ڈوگر
ملک میں تعلیم نجی شعبہ کو منتقل ہوچکی ہے غریب بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، معیار بہتر نہ ہونے سے باہر سے کوئی پڑھنے نہیں آتا ، عبدالرشید گوڈیل
ملک شناخت تعلیم سے ہوتی ہے ہمارے علاقے میں بنیادی تعلیم ختم ہوچکی ہے ،تعلیم ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے،علم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے، غوث بخش مہر و دیگر کی قرارداد پر بحث

اسلام آباد: اراکین اسمبلی نے آئندہ بجٹ میں حکومت سے تعلیم کے بجٹ کو بڑھانے کی سفارش کردی ، تعلیم کے حوالے سے باتیں کاغذوں تک محدود ہیں ، دانش سکول سسٹم بنایا گیا لیکن عوام کو کوئی سہولیات نہیں دی گئی ،1993 میں تعلیم پر جی ڈی پی کی شرح 1.93 فیصد تھی جو اب دو فیصد ہوئی ہے ملک میں پرائمری سطح پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے خواتین کی تعلیم کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں 20 کروڑ کی آبادی میں 50فیصد تعداد خواتین کی ہے مگر ملک میں خواتین کی یونیورسٹیوں کی تعداد صرف 13 ہے حکومت ملک کے ہر شہر میں ضلع میں یونیورسٹی بنائے خاص طور پر خواتین کی یونیورسٹیاں ضرور بننی چاہیے تاکہ خواتین کو اپنے گھر کی دہلیز پر تعلیم میسر ہوسکے اس سے نہ صرف معاشرہ میں آگاہی آئے گی بلکہ ملک ترقی بھی کرے گا

منگل کو ایوان زریں میں ملک کے ہر ضلع میں خواتین یونیورسٹی قائم کرنے کے حوالے سے قرارداد پر بحث کرتے ہوئے اراکین اسمبلی نے اپنی رائے کا اظہار کیا اس موقع پر قرارداد کی موجد رکن قومی اسمبلی شکیلہ لقمان نے کہا کہ ملک کی آبادی 20 کروڑ روپے بڑھ گئی ہے اس میں پچاس فیصد سے زائد خواتین کی تعداد ہے مگر پورے ملک میں صرف 13 یونیورسٹیاں خواتین کی ہیں حکومت ہر شہر اور ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کی جائے تاکہ خواتین زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں اس سے نہ صرف معاشرہ بلکہ جنریشن پڑھ جائے گی رکن قومی اسبلی شیر اکبر خان نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنا ہر مرد و خواتین کا حق ہے جس نے ضلع بونیر میں خواتین کی یونیورسٹی بنانے کی قرارداد پیش کی تھی جس کو منظور کیا گیا تھا اس پر عملدرآمد کروایا جائے رکن قومی اسمبلی سراج محمد خان نے کہا کہ نوشہرہ میں خواتین کی یونیورسٹی نہیں ہے رسالپور میں کافی زمین پڑی ہوئی ہے جس میں عارضی بے گھر افراد نے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں حکومت ان سے جگہ خالی کروا کر خواتین کی یونیورسٹی تعمیر کرے رکن قومی اسمبلی عبدالقہار نے کہا کہ خواتین کی یونیورسٹی ہر ضلع میں ہونی چاہیے اس سے ایک ایسا پیغام جائے گا وفاقی حکومت خواتین کی یونیورسٹیوں کے حوالے سے بجٹ میں زیادہ فنڈز مختص کرے شازیہ مری نے کہا کہ خواتین و مرد کو تعلیم کی یکساں سہولیات میسر ہونی چاہیے اس ملک میں تعلیم کے حوالے سے باتیں کاغذوں تک محدود ہیں دانش سکول سسٹم کی باتیں ہوئی لیکن وہاں پر کچھ نہیں دیا گیا ہماری حکومت تعلیم پر جی ڈی پی کا دو فیصد خرچ کررہی ہے یہ چار فیصد تک ہونا چاہیے حکومت کو اسکل تعلیم کی جانب توجہ مرکوز کرنی چاہیے اے این پی کے غلام احمد بلور نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی بہت ضرورت ہے فاٹا کے علاقہ میں خواتین تو دور کی بات مردوں کے لئے کوئی یونیورسٹی نہیں ہے حکومت کو ٹیکنیکل یونیورسٹیاں بنانے کی جانب سے زیادہ دھیان دینا چاہیے اس سے بے روزگاری میں کمی ہوگی ۔

نعیمہ کشور خان نے کہا کہ اس بل پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں تھی اس کو فوری طور پر منظور ہونا چاہیے حکومت آئے روز کانفرنسز کروا رہے ہیں لیکن خواتین کی تعلیم کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہے خواتین کے پڑھنے سے معاشرے میں شعور آئے گا قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ملک میں اچھے کالجز اور یونیورسٹیوں کے قیام کی ضرورت ہے چنیوٹ میں کالجز اور یونیورسٹیوں کی بہت کمی ہے حکومت ملک میں خواتین کی یونیورسٹیاں بنانے کی جانب دھیان دے ایم این اے ملک عامر احمد ڈوگر نے کہا کہ قومیں موٹروے بنانے یا پل بنانے سے نہیں بنتی بلکہ تعلیم اورصحت پر پیسے خرچ کرنے سے معاملات بہتر ہوتے ہیں جنوبی پنجاب میں سکولوں کی حالت بری ہے تو یہ یونیورسٹیوں کی جانب کیا دھیان دینگے گزشتہ بیس سالوں کے دوران ملتان میں خواتین کی یونیورسٹی بنانے کا پروگرام چل رہا ہے لیکن ابھی مکمل نہیں ہوسکا ہے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پاکستان کا لٹریسی ریٹ بہت کم ہے پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بحث ہونی چاہیے دنیا ہمارے تعلیمی بجٹ پر ہنستی ہے ہمارے ہمسائیوں میں تعلیمی بجٹ بہت زیادہ ہے تمام اراکین کواس پر بات کرنی چاہیے ایم این اے نواب یوسف تالپور نے کہا کہ تعلیم صوبائی مسئلہ ہے وفاق نے آدھے سے زائد فنڈ اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں 1993 میں تعلیم جی ڈی پی کا 1.9فیصد تھا اور اب بھی تقریباً اتنا ہی ہے جے یو آئی کی عالیہ کامران نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں تعلیم پر زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کرے تعلیم کے یلئے مختص جگہ کو عوام بیچ رہے ہیں لیکن حکومت کوئی دھیان نہیں دے رہی ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل نے کہا کہ ملک میں تعلیم نجی شعبہ کو منتقل ہوچکی ہے غریب بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے

پہلے ہمارے ملک میں باہر سے لوگ آتے تھے مگر اب تعلیم کا معیار نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نہیں آرہا خواتین کو تعلیم دینے کی اشد ضرورت ہے اس لئے حکومت ہر ضلع میں خواتین کی یونیورسٹی قائم کرے ۔ انجینئر عمران ترکی نے کہا کہ وفاق کو تعلیمی بجث کو بڑھانے کی ضرورت ہے تمام کالجز و یونیورسٹیاں اسلام آباد میں بنا رہی ہیں لڑکیوں کے سکول اور یونیورسٹیاں بہت ضروری ہیں کے پی کے کی حکومت تعلیم پر کافی رقم خرچ کررہا ہے چھوٹے صوبوں کو یونیورسٹیوں کے حوالے سے خصوصی توجہ دی جائے ایم این اے رانا محمد قاسم خان نے کہا کہ علم حاصل کرنا ہر شخص پر فرض ہے جبکہ پنجاب سب سے پسماندہ علاقہ ہے اس میں خواجہ غلام فرید کے نام سے ایک جدید یونیورسٹی بننی چاہیے اس سے علاقہ کے لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا غوث بخش مہر نے کہا کہ ملک شناخت تعلیم سے ہوتی ہے ہمارے علاقے میں بنیادی تعلیم ختم ہوچکی ہے صاحبزادہ یعقوب نے کہا کہ تعلیم سے قومیں ترقی کرتی ہیں پورے مالاکنڈ ڈویژن میں ایک بھی خواتین کی یونیورسٹی نہیں ہے خواتین تعلیم کیلئے پشاور آتی ہیں ۔ شیخ فیاض الدین نے کہا کہ علم کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے اور اس کی شروعات اسمبلی سے کی جائے اسمبلی کو گزشتہ چند روز پہلے اکھاڑا بنایا گیا تھا

اس لئے اس امر کی ضرورت ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ضروری ہے ڈاکٹر جے جے جمال نے کہا کہ تعلیم اورصحت بنیادی چیزیں ہیں عورتوں کا لٹریسی ریٹ چار فیصد سے کم ہے گزشتہ چار سال سے فاٹا میں تعلیمی ادارے مانگ رہے ہیں لیک نہیں مل رہے سردار منصب علی ڈوگر نے کہا کہ پاک پتن میں بابا فرید کے نام پر پچاس ایکڑرز زمین خریدی گئی ہے لیکن وہاں یونیورسٹی نہیں بنائی گئی لیکن پرائیویٹ یونیورسٹی کا کیمپس بن گیا ہے ہم زمین دینا چاہتے ہیں لیکن اس کا نام بابا فرید یونیورسٹی رکھا جائے حامد الحق نے کہا کہ ایچ ای سی کا رول ختم ہوگیا ہے وہ اپنی مرضی کررہے ہیں روزانہ کی بنیاد پر پرائیویٹ ادارے کھل رہے ہیں اگر تعلیم صوبوں کو چلی گئی ہیں تو وفاق کا تعلیم کے حوالے سے کیا رول ہے سردار طارق اللہ نے کہا کہ تعلیم ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے 2002ء میں اپنے ضلع کا ڈ سٹرکٹ ناظم رہا ہوں ہمارے علاقوں میں خواتین کی تعلیم بہت کم ہے ایچ ای سی اپنا رول ادا کررہی ہے ملک میں تعلیم بہت مہنگی ہوگئی ہے فی سمسٹر کیلئے ساٹھ سے ستر ہزار ادا کرنے پڑتے ہیں حکومت کو ایسا طریقہ کار طے کرے جو ڈگریاں حاصل کررہے ہیں ان کو نوکریاں دی جاسکیں