Cloud Front

بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات خطے میں امن کی ضمانت ہیں ، برطانوی وزیر اعظم

صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے دونوں ممالک کو صبر و تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، تھریسامے

لندن: بھارت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ دیتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ ہم دونوں ممالک کو قریب لانے کے خواہاں ہیں بھارتی میڈیا کے مطابق ایک ٹاک شو میں بات چیت کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے جنوبی ایشیاء کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے سے ہی خطے میں امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے ۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سات دہائیاں قبل دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور حالات اس قدر گھمبیر اور تشویشناک بن جائیں گے یہ بھی کسی نے نہیں سوچا ہو گا ۔ خاتون وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ مسائل کی وجہ سے ہی جنوبی ایشیاء کے کئی ملکوں کے مابین اختلافات نے شدت اختیار کر لی ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ صورت حال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ برطانیہ سمیت بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا ۔ شو میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے بھارت پاکستان کی سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل کو حل ؒ کرنے کے لئے ایک دوسرے کے قریب آئیں دنیا تشدد کو پسند نہیں کرتی ہے اور نہ ہی طاقت کے بل بوتے پرکئی مسائل حل ہوا کرتے ہیں افغانستان اور پاکستان میں دہشتگردی کا ذکر کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہاکہ اس سے جنوبی ایشیاء کو ہی نہیں بلکہ اقوام عالم کو خطرہ ہے اگرچہ پاکستان کی فوج دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے کمربستہ ہو چکی ہے ۔برطانوی وزیر اعظم نے بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے ملک کے بہتر تعلقات ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ بھارت پاکستان ایک دوسرے کے قریب آئیں مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں تجارت کو فروغ دینے ، لوگوں کے میل ملاپ کو یقینی بنانے ، تمدنی اور ثقافتی پروگراموں کا آغاز ہے انہوں نے کہاکہ ٹریک ٹو سطح کی ڈپلومیسی کو مضبوط اور مستحکم بنائے جس سے خطے میں اعتماد بحالی ہوئی ۔