Cloud Front
Corruption

چین کے ساتھ فری ٹریڈ کے معاہدے کی آڑ میں اربوں کی کرپشن

اسلام آباد،فیصل آباد ڈرائی پورٹ پر کسٹم حکام نے کمپنیوں کو اربوں کی چھوٹ دے رکھی ہے

اسلام آباد : ایف بی آر حکام نے چین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے(ایف ٹی اے)کی آڑ میں پاکستانی کمپنیوں سے بھی درآمدی ڈیوٹی کی چھوٹ دے رکھی ہے جس سے قومی خزانہ کو سالانہ415 ملین روپے کا نقصان ہورہا ہے،اس کرپشن میں اسلام آباد اور فیصل آباد میں تعینات اعلیٰ حکام کسٹم شامل ہیں،ایک سرکاری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسلام آباد اور فیصل آباد میں موجود ڈرائی پورٹ اور ائیرپورٹ پر جو سامان پاکستانی کمپنیاں درآمد کرتی ہیں کسٹم حکام سے مل کر ایف ٹی اے کا سہارا لیکر اربوں روپے کی ڈیوٹی چوری کی جارہی ہے جس سے قومی خزانہ کو سالانہ 42کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے،رپورٹ کے مطابق ایف ٹی اے سابق حکومت نے چین کے ساتھ سائن کیا تھا جس کی میعاد جنوری2013ء میں ختم ہوگئی تھی اس کے بعد اس معاہدے کی تجدید بھی نہیں کی گئی ہے۔

وزارت کامرس کے ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ وزارت نے اس معاہدے کی تجدید کیلئے ابھی تک کوئی سمری وزارت خزانہ کو ارسال نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی چین کی حکومت نے اس حوالے سے کوئی سرگرمی دکھائی ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ معاہدہ2008ء میں چین کے ساتھ ہوا تھا جس کی روشنی میں ایف بی آر نے ایس آر او659(1) جاری کیا تھا،معاہدہ ختم ہونے کے بعد ایف بی آر حکام نے اس ایس آر او کا سہارا لیکر کمپنیوں کو درآمدی ڈیوٹی کی چھوٹ دینے میں مصروف ہیں اور اب تک اربوں روپے کرپشن کی نذر ہوچکے ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت کامرس کی کرپٹ بیوروکریسی نے ابھی تک متعلقہ قوانین تشکیل دینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی بلکہ کسٹم حکام کو آزادی سے لوٹ مار کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ایف بی آر حکام نے ہی جنوری2013ء کے بعد ایف ٹی اے کا سہارا لیکر درآمد کی گئی اشیاء سے ڈیوٹی کی وصولی کیلئے کسی کمپنی کو تاحال نوٹس بھی جاری نہیں کیا بلکہ کسٹم حکام نے اس معاملہ کو ایف بی آر کی بڑی فائلوں میں دبادیا ہے تاکہ کرپشن کا کوئی ثبوت بھی نہ مل سکے۔اس حوالے سے ایف بی آر سے رابطہ کرکے وضاحت طلب کی گئی تو ترجمان نے حقائق سے آگاہ کرنے سے انکار کردیا