Cloud Front
SUprem Court

ن لیگ کے رہنماء ظفرعلی شاہ نے حسین حقانی کے بیان کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی

ن لیگ کے رہنماء ظفرعلی شاہ نے حسین حقانی کے بیان کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی
سابق سفیر نے ایبٹ آباد کمیشن میں سہولت کار کا اعتراف کر لیا،آصف زرداری،گیلانی ،حسین حقانی کا نام ای سی ایل اور کورٹ مارشل کے تحت مقدمہ چلایا جائے ،درخواست گزار

اسلام آباد : سابق سفیرحسین حقانی کے ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق بیان کامعاملہ مسلم لیگ ن کے رہنماء ظفرعلی شاہ نے حسین حقانی کے بیان کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی ہے جس میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق صدرآصف علی زرداری،سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور حسین حقانی کے خلاف کورٹ مارشل کے تحت مقدمہ چلایاجائے اور تینوں افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں ، بدھ کو دائر کردہ درخواست میں وفاقی حکومت ، وزارت دفاع ، وزارت خارجہ ، سیکرٹری داخلہ ،وزارت قانون ، آصف علی زرداری ، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ، اور حسین حقانی کو فریق بنایا گیا ہے ،مسلم لیگ ن کے رہنماء ظفر علی شاہ کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حسین حقانی نے اپنے بیان میں ایبٹ آباد آپریشن کے لیے سہولت کار کاکردار اداکرنے کا اعتراف کیاہے، امریکہ کی افواج کو پاکستان کی ایک فوجی چھاونی کے علاقے میں مسلح یلغار سے متعلق صرف تین افراد کو پتہ تھا اور ان میں حسین حقانی کے علاوہ آصف زرداری اور یوسف رضاگیلانی بھی شامل تھے،

ان تینوں افراد نے ملک و قوم کی سلامتی کو داؤ پر لگاتے ہوئے ایک مقروح سازش کرتے ہوئے قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا اعتراف حسین حقانی نے گزشتہ دنوں میں واشگاف الفاظ میں کیا ہے ، اور آصف زردار اور یوسف رضاگیلانی نے اس بات کی تردید تک نہیں کی ہے ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے 2016میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے اسوقت کے آرمی چیف اور دیگر جرنیلوں کو مخاطب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ آپ لوگ چند عرصے کے لیے ہیں جبکہ ہم نے ہمیشہ رہنا ہے ، آپ اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا ، اس تقریر کے بعد وہ ملک سے فوری طور پر باہر چلے گئے تھے اور دوبارہ آرمی چیف کی تبدیلی کے بعد وطن واپس آئے ،

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حسین حقانی ، آصف علی زرداری اور یوسف رضاگیلانی کے ساتھ ملکر ایک قومی جرم کے ارتکاب کا اعتراف کر لیا ہے ، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے دستور کے مطابق پاکستان کے ساتھ حلف وفاداری بھی اٹھا یا تھا اور لیکن اس کے باوجود انہوں نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے اور ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق معلومات کو افواج پاکستان سے خفیہ رکھا ہے ، تینوں افراد ملک کے ساتھ غداری کے مرتکب ہوئے ہیں ان کیخلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جانے ضروری ہیں ، اگر ان تینون افراد کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 اور دیگر قوانین کے تحت مقدمات نہ بنائے گئے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ 20کروڑ عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی ہو گی اور آئند بھی ہر وقت اس بات کا خدشہ رہے گا کہ کسی بھی وقت ملک کی اندرونی خودمختاری کو خطرہ لاحق رہے گا ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں افرا د کے فعل سے نہ صرف درخواست گزار بلکہ پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوئے ہیں ، درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ حسین حقانی کوبیرون ملک سے لانے کے احکامات دینے کے ساتھ سابق صدر آصف علی زرداری،سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اورحسین حقانی کانام ای سی ایل میں شامل کیاجائے۔