Cloud Front

وزیر اعظم کے پریس سیکرٹری کا دباؤ، بھائی جینوا میں کمر شل قونصلر تعینات !

وزیر اعظم کے پریس سیکرٹری کا دباؤ کام کر گیا
اپنے بھائی معین الدین احمد وانی کو جینوا میں کمر شل قونصلر تعینات کروانے میں کامیاب ہو گئے

اسلام آباد : وزیر اعظم کے پریس سیکرٹری محی الدین وانی کا دباؤکام کر گیا، کمر شل قونصلر کے عہدے کے لیے اپنے بھائی معین الدین احمد وانی کو جینوا میں تعینات کروانے میں کامیاب ہو گئے آن لائن کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے 14مارچ کو کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ سمیت دیگر گروپوں کے 8کمرشل قونصلروں کو مختلف ممالک میں تعینات کرنے کی منظوری دی تھی، کمرشل قونصلرز میں ڈاکٹر محمد عرفان ، خواجہ خرم نعیم، معین الدین احمد وانی، بدر الزمان، سلیم احمد چوہدری، سلمان علی، محمد علی ، اسد خان اور سدرہ حق شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر وزیر اعظم کو بجھوائے گئی سمری میں ڈاکٹر محمد عرفان کو پیرس، خواجہ خرم نعیم کو فرینکفرٹ ، معین الدین احمد وانی کو واسا، بدر الزمان کو جنیوا، سلیم احمد چوہدری کو بیجنگ ، سلمان علی کو برسلز، محمد علی کو دوہا، اسد خان کو کویت اور سدرہ حق کو دوشنبے تعینات کرنے کی سفارش کی گئی تھی

ذرایع کے مطابق وزیر اعغم کے پریس سیکرٹری محی الدین وانی اپنے بھائی کو وارسا میں تعینات نہیں کروانا چاہتے تھے کیو نکہ وارسا ، پولینڈ ان کے خیال میں ترقی پذیر ملک نہیں ہے لمزکے ٹیسٹ اور انٹرویو کے نمبروں کے مطابق محی الدین وانی کے بھائی معین الدین احمد وانی کو کسی اور جگہ تعینات نہیں کیا جا سکتا ہے اگر وہ انکار کرتا ہے تو وزارت کسی اوہ بندہ کو اس کی جگہ کے لیے غوروخوص کرے گی مگر جب سمری وزیر اعظم ہاوس گئی تو اس مسئلہ کو حل نکالنے کی کوشش کی گئی اور آخر میں فیصلہ ہوا کہ وارسا کے اسٹین کو جینوا میں تبدیل کر دیا جا ئے وزارت تجارت کے حکام نے وزیر اعظم سے منظوری کے بعد منتخب ہونے والے امیدواروں کو ای میل کی ہے جس میں ان افسران کو دوبارہ اسٹیشن منتخب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

جس سے معین الدین احمد وانی کے جینوا جانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے واضح رہے کہ جینوا میں پہلے ہی ڈبلیو کے تحت پاکستان کا اسٹیشن قائم ہے جس میں پاکستان کے کمرشل قونصلر ،حمد محسن رفیق کام کر رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر توقیر شاہ جینوا میں پاکستان کے مستقل مندوب ہیں۔ وزات کے حکام کے مطابق وزیر تجارت نے مشرقی یورپ کی مارکیٹ کو captureکرنے کے لیے گذشتہ سال پولینڈ کا دورہ کیا تھا اور اس میں طے پایا تھا کہ وارسا میں جلد ہی کمرشل قونصلر کو تعینات کیا جاے گاواضح رہے کہ کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے بیشتر افسران نے کمرشل قونصلر سے بیرون ملک تعیناتی کا بائیکاٹ کیا تھا ان کامطالبہ تھاکہ ان کو پرانی تجارتی پالیسی کے مطابق الاونس دیا جائے گا اس وقت 57 مختلف ممالک میں پاکستان کے کمرشل قونصلرز کام کررہے ہیں ۔