Cloud Front

وزیر اعظم کے اعلان کے بعد پا ک افغا ن بارڈر کھول دیا گیا

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر کھلنے سے نیٹو سپلائی اور افغان ٹریڈ ٹرانزٹ بھی بحال ہوگئی،کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے پاکستانی سیکورٹی فورسز ہائی الرٹ

اسلام آباد/ پشا ور: وزیر اعظم نواز شریف کے اعلان کے بعد پاک افغان بارڈر پر طورخم گیٹ کھول دیا گیا ، بارڈر کھلنے سے نیٹو سپلائی افغان ٹریڈ ٹرانزٹ بھی بحال ہو گئی۔ ملک میں شدت پسندی کی تازہ لہر میں 100 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد 16 فروری کو سرحد بند کی گئی تھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے تحت پاک افغان بارڈر باب دوستی کو تقریباً ایک ماہ بعد آمد و رفت کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ دونوں اطراف موجود ہیں ، بارڈر کھلنے سے نیٹو سپلائی ، افغان ٹریڈ ٹرانزٹ بھی بحال ہو گئی تاہم افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے افراد اور گاڑیوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

صبح 7 بجے طورخم سرحد کھلنے پر دونوں ملکوں کے درمیان آمد و رفت شروع ہو گئی، کارخانو مارکیٹ پشاور اور جمرود میں پھنسے کنٹینرز طورخم کی طرف جانا شروع ہو گئے ہیں جب کہ سرحد کھلنے پر ڈرائیورزکی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔باب دوستی پر تجارتی ٹرکوں کی کلیئرنس کے لیے کسٹم عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، شہریوں کا ڈیٹا انٹری کرنے والا عملہ بھی ڈیوٹی پر پہنچ چکا ہے جب کہ سرحد پر ویزہ کی سختی سے پابندی کی جارہی ہے اور مکمل سفری دستاویزات کو چیک کرکے سرحد پار کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے پاکستانی سیکورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں ،واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ ماہ افغانستان سے دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لئے افغانستان سے ملحقہ طورخم بارڈر اور چمن گیٹ کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا تھا۔

گزشتہ روز وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری مذہبی ، ثقافتی اور تاریخی روابط فراموش نہیں کیے جاسکتے ، سرحد کی بندش ان دیرینہ روابط کی بھی بندش تھی۔ وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ جن وجوہات کی بنا پر سرحد بند کی گئی تھی۔ ان کے تدارک کے لیے افغان حکومت ٹھوس اقدامات کرے گی۔