Cloud Front
Sindh Taas

آبی تنازع: پاک بھارت مذاکرات آئندہ ماہ امریکہ میں ہوں گے

عالمی بینک اور امریکہ کی مداخلت پر بھارت متنازع ہائیڈور پاور منصوبوں پر پاکستان سے مذاکرات کیلئے راضی ہوا،وفاقی وزیر خواجہ آصف

اسلام آباد: عالمی بینک اور امریکہ کی مداخلت کے بعد بالآخر بھارت اپنے متنازع ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پر پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار ہوگیا۔پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان عالمی بینک کی سربراہی میں آئندہ ماہ 11 اپریل سے واشنگٹن میں 3 روزہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سندھ طاس معاہدے پر پاکستان اور بھارت کے واٹر کمشنرز کی سربراہی میں دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے۔مذاکرات کے لیے بھارت کے انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینہ کی قیادت میں 10 رکنی وفد اسلام آباد پہنچا۔مجوزہ متنازع پاور منصوبوں پر مذاکرات کے لیے بھارتی رضامندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے بتایا کہ امریکا کی مداخلت کی وجہ سے دونوں ممالک اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر تیار ہوئے۔خواجہ آصف کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان متنازع بھارتی منصوبوں پر آئندہ ماہ 11 سے 13 اپریل تک واشنگٹن میں سیکریٹری سطح کے مذاکرات ہوں گے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کے متنازع منصوبوں پر احتجاج ہمارا حق ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بھارت ان مجوزہ منصوبوں کے ڈیزائن ہمارے ساتھ شیئر کرے۔خیال رہے کہ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی حدود میں پاکستانی دریاؤں پر متنازع منصوبے بنا رہا ہے۔پاکستان کا مطالبہ ہے کہ بھارت متنازع 330 میگا واٹ کے کشن گنگا اور 850 میگاواٹ کے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس منصوبوں کے ڈیزائن پاکستان کے ساتھ شیئر کرے۔

جولائی 2016 میں پاکستان نے ان متنازع منصوبوں کے پیش نظر اعلیٰ سطح کے وفد کو نئی دہلی کا دورہ کرنے کی تجویز پیش کی، جسے بھارتی حکومت نے مسترد کردیا، جس کے بعد پاکستان نے بھارت کے خلاف عالمی ثالث عدالت سے رجوع کیا۔پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت کے ان متنازع منصوبوں پر عالمی ثالث عدالت اپنا کردار ادا کرے، جبکہ بھارت ایک غیر جانبدار ماہر کی تقرری کا مطالبہ کرتا ہے۔سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان 1960 میں ہوا تھا، جس کے تحت تین دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا پانی بھارت جب کہ سندھ، چناب اور جہلم کا پانی پاکستان کو استعمال کرنے کا حق دیا گیا تھا، معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کا پانی نہیں روک سکتے اور نہ ہی ان دریاؤں پر متنازع منصوبے بناسکتے ہیں۔