Cloud Front
Sindh Court

سندھ ہائی کورٹ : سکھ برداری کا مردم شماری میں نام شامل نہ کرنے کیخلاف درخواست دائر

عدالت نے وفاقی حکومت اور ادارہ شماریات کو نوٹسز جاری کر دیئے

کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں سکھ برداری کا نام مردم شماری میں شامل نہ ہونے کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمدعلی شیخ پرمشتمل دورکنی بینچ نے سکھ برادری کی جانب سے مردم شماری 2017 کے فارم میں سکھوں کی نمائندگی نہ ہونے پردرخواست کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت اورادارائے شماریات کو28مارچ تک نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ درخواست میں سکھوں کی جانب سے موقف اختیارکیا گیا کہ پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد سکھ آباد ہیں، مردم شماری فارم میں دیگرمذاہب اور برادریوں کو شامل کیا گیا ہے لیکن سکھ برادری کے لیے خصوصی خانہ شامل نہیں ، اس اقدام سے ملک میں آباد محب وطن سکھ برادری میں احساس محرومی پیدا ہوگا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہاہرشہری اورکسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے کابنیادی حق ہے کہ اس کانام مردم شماری میں شامل کیاجائے ۔