پاکستان اور چین کے بڑھتے تعلقات

پاکستان اور چین کے بڑھتے تعلقات

ماضی کے سالوں سے لے کر آج تک ملک پاکستان کی دوستی بہت سے ممالک سے رہی مگر پاک اور چین کی دوستی کا کوئی جوڑ نہیں۔ پاکستان میں ملک چین کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کا اندازہ تو اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں چینی زبان سیکھنے کا رجحان کافی حد تک بڑھ چکا ہے۔ چینی زبان سیکھنے کے لیے مخصوص اداروں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اس ساتھ ساتھ تقریبا ہر بڑے شہر کے اداروں میں چینی زبان سیکھنے کے کورسز بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان اداروں میں گزرتے دن طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ غیر ملکی ادارے بھی مختلف زبانیں سکھانے کے لیے اکیڈمیوں کو متعارف کرواتے ہیں۔ زبان کے علاوہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ثقافت سے بھی آشنا ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں چینیوں کی سیر و تفریح میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نہ کہ صرف چائنہ کے ہی لوگ بلکہ پاکستان سے بھی ہر سال ایک بڑی تعداد کا چائنہ جانے کا رجحان پروان چڑھتا جا رہا ہے۔ نوجوان اعلی تعلیم کے حصول کے لیے یا ڈاکٹر کے شعبے سے منسلک ہونے کے لیے چائنہ کا رخ کرتے ہیں۔ سی پیک کے آغاز کے بعد جہاں چینیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا وہاں چین آنے اور جانے کے بڑھتے رجحان نے بھی ایک عظیم اور مضبوط دوستی کا ثبوت دیا۔ ایک زمانے میں چین کی ساختہ برقی مصنوعات نے مقامی کارخانوں میں تالے لگوائے مگر سی پیک کے ساتھ چینی کاروبار اور کمپنیوں کے ساتھ بڑھتے قدم نے پاکستان کی معیشت و تجارت پر وسیع اثرات مرتب کئے۔ چین کے ساتھ دوستی کی بڑی مثال یہاں سے بھی ملتی ہے کہ اب پاکستان میں پھل اور سبزیاں بڑی تعداد میں امپورٹ ہوتی ہیں۔ چین سے بڑی مقدار میں آنے والے پھلوں اور سبزیوں میں سیب ، گاجر، ٹماٹر اور دیگر سبزیاں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے کسانوں کی آمدنیوں میں بڑے درجے پر اضافہ کیا ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان میں چین کے رسم و رواج سے آشنائی بھی ہوئی۔ اب پاکستان میں چینی کھانوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے اور اس کا پچھلے چند سالوں میں رجحان عروج پر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کے ہر بڑے اور ترقی یافتہ شہر میں چینی ریسٹورینٹس کی بھر مار ہے۔ اور یہاں کے لوگ چینی کھانوں کو بہت ترجیح دیتے ہیں۔ چین پوری دنیا کی معیشت پہ اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔ چین البتہ پاکستان کا دیرینہ دوست ہے مگر ہمیں چین کی دوستی دیکنے کے لیے ماضی میں جانا پڑے گا۔ پاکستان نے اپنی تقسیم کے بعد ملکی معیشت میں بہتری لانے کے حصول کے لیے غیر ملکوں پر انحصار کیا، جس وقت دنیا دو سپر پاور سوویت یونین اور امریکہ کے مابین تھی۔ پاکستان نے اس وقت امریکہ کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں پاکستان بین الاقوامی سطح پر قرضے لینا شروع ہو گیا۔ پاکستان نے اس نقصان کو دیکھتے ہوئے اپنے رقیب اور دیرینہ دوست چین کے ساتھ سماجی اور معاشی تعلقات میں مزید بہتری لائی ۔جو کہ آج تک پاکستان کے لیے ہر لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوئی۔

3 Comments
  1. Amna Mahar says

    👍

  2. Amna Mahar says

    ❤️keep it up❤️

    1. Manahil Hamid says

      Thankss

Comments are closed.