بچوں سے مزدوری کروانا، دنیا میں چائلڈ لیبر

دنیا میں بچوں سے مشقت کی تحریک بہت پُرانی ہے جو کہ ان کی دماغی، جسمانی، اخلاقی اور سماجی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اگرچہ تبدیلی صرف اس حد تک آئی ہے کہ پہلے دنیا صنعتی ترقی میں انتہائی پیچھے تھی۔ اُس وقت کسانوں کی اولادیں اپنے والدین کے ساتھ کھیتوں اور باغات میں مشقت کرتی تھیں۔ مگر یہ مشقت جبری نہیں تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ یورپ میں صنعتی ترقی کی ریشو میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور ایشیاء ، افریقہ، امریکہ اور دیگر ممالک میں بچوں سے مشقت و مزدوری کا کام پروان۔چڑھتا گیا۔ مزدور کے ساتھ مزدور کے بچوں کا کام کرنا بھی جیسے رسم و رواج بن چکا تھا۔

بچوں سے مزدوری کروانے کا یہ غیر انسانی سلوک کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان دنیا کے سر فہرست پہ ہے۔ 1800 کی پہلی دہائی تک برطانیہ میں 20 لاکھ بچوں سے ہفتہ وار 50 سے 70 گھنٹے مشقت لی جاتی تھی۔ یوں معصوم بچوں کے حسین خوابوں کو دفنا کر ان سے مشقت اور مزدوری کا کام لیا جاتا۔ یوں اس کے نتیجے میں برطانیہ میں قوانین کو نافذ کیا گیا، جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ بچوں کی مشقت کے گھنٹوں میں کمی آئی۔

وہ سب معصوم سے چہرے تلاش رزق میں غُم ہیں
جنہیں تتلی پکڑنا تھی ، جنہیں باغوں میں ہونا تھا

اس کے بعد 1914 سے 1918 تک پہلی جنگ عظیم آئی اس جنگ کے بعد دنیا میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر اقوام عالم ” لیگ آف نیشن” بنائی گئی لیکن یہ ادارہ بھی بچوں کی مشقت کی روک تھام کے لیے ناکام رہا۔ اسکے علاوہ 1945 میں دوسری جنگ عظیم ختم ہو گئی تو فوراََ ہی اقوام متحدہ UNO کا ادارہ تشکیل پایا اور دنیا میں بچوں کے حقوق کے لیے عالمی سطح پر کامیاب کوشیشیں ہونے لگیں۔
دنیا میں چار میں سے ایک بچہ مشقت سے منسلک ہے۔ اور سالانہ 22000 مشقت کرنے والے بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس وقت عام بازاروں، ریستورانوں، ہوٹلوں اور دکانوں میں کام کرنے والے بچوں کے مقابلے میں گھروں میں کام کرنے والے ہوم بیسڈ ورکرز کی تعداد بہت زیادہ ہے۔امیر کبیر گھرانوں میں ملازمین خصوصاََ ملازمہ رکھنے کا رواج ہوتا ہے جو کہ ان کی رہائش گاہوں کے ساتھ سرونٹ کوارٹروں میں رھتے ہیں۔ یہ رجحان اب بھی اونچائی کی سطحوں کو پہنچ رہا ہے۔ ان ہوم بیسڈ ورکرز کی عمر دس دس سال سے بھی کم ہوتی ہے۔ اور ان کی ماحانہ تنخواہ بھی دو چار ہزار سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ بچے لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور باقی شہروں کے ساتھ دیہاتوں میں بھی لاکھوں کی تعداد میں کام کرتے ہیں۔ اب تو پانچ مرلے کے گھروں والے بھی ملازمین بچوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ %90 بچے دس سال کی عمر سے کم کے ہوتے ہیں۔

کھلونے رکھا دئیے میں نے
کہ دنیا کھیل لے مجھ سے

1934 کا فیکٹریز ایکٹ آیا جس میں بچوں کی مشقت پر توجہ دی گئی۔ 1969 میں ویسٹ پاکستان شاپز اسٹبلائزر کا قانون آیا پھر 1991 میں دی ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ آیا۔ پاکستان میں 1990 کی دہائی میں 11 ملین بچے یعنی ایک کڑوڑ دس لاکھ بچے مشقت کرتے تھے۔ یہ بچے غربت اور کم خوراکی کی وجہ سے پیدائشی طور پر کمزور پیدا ہوتے تھے۔ 1996 کی آبادی کے مطابق %49 تھے اور ان میں سے 35 لاکھ مشقت کرتے تھے۔ ان بچوں میں سے %73 لڑکے اور %27 لڑکیاں تھیں۔

کہا جاتا ہے کہ 2030 کے ایجنڈے کے تحت 2025 تک دنیا سے بچوں کی ہر طرح کی مشقت کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ 16 سال سے کم کی عمر کے بچوں کو مفت معیاری تعلیم فراہم کی جائے۔ اور اب تک بچوں کی مشقت کی روک تھام سے متعلق ، گھروں میں پہنچ کر اقدامات کرنے چاہیے۔ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے لیے ریجسٹریشن کو لاذمی جز قرار دینا چاہئے۔ سب سے بہتر اقدام یہ ہے کہ ہم خود سب سے پہلے اپنے اور اپنے آس پاس کے گھروں سے چائلڈ لیبر کے خلاف آواز بلند کریں۔

1 Comment
  1. Tehreem Ranjha says

    بہت خوب

Comments are closed.