وزیراعظم ہاؤس میں موجود تمام بھنیسیں فروخت کردی گئی

تحریک انصاف کی کفایت شعاری مہم کے تحت غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے کے سلسلے میں وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کے بعد بھینسیں بھی نیلام کردی گئیں۔ ۔

جسطرح سے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنے پہلے خطاب میں سادگی اختیار کرنے اور کم اخراجات کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کیلئے اقدامات کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔۔تو اس سلسلے میں وزیر اعظم ہاؤس کی جن قیمتی گاڑیوں کی نیلامی کا اعلان کیا گیا تھا، پی ٹی آئی نے وزیراعظم ہاؤس کی ان نیلام ہونے والی گاڑیوں کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کردی تھی۔۔ اور اسی طرح اب انھوں نے وزیراعظم ہاؤس میں موجود بھینسوں کو بھی بیچ ڈالا۔۔

وزیراعظم ہاؤس میں موجودہ تین بھینسوں،تین کٹیوں اور کٹے کو بولی کیلئے پیش کیا گیا۔ پہلی بھینس تین لاکھ پچاسی ہزار روپے میں دوسری تین لاکھ ،،، تیسری بھینس تین لاکھ تیس ہزار روپے میں نیلام ہوئی۔ نیلامی میں ایک کٹی دو لاکھ پندرہ ہزار، دوسری دو لاکھ ستر ہزار اور سب سے چھوٹی کٹی ایک لاکھ بیاسی ہزار روپے میں فروخت ہوئی۔ کٹا تین لاکھ پندرہ ہزار روپے میں فروخت ہوا۔ خریداروں سے نقد رقم وصول کر کے بھینسیں حوالے کردی گئیں۔۔۔

اس کے علاوہ کچھ عرصے پہلے پی ٹی آئی نے وزیراعظم ہاؤس کے اندرونی مناظر کی فوٹیج بھی جاری کی تھی۔۔ فوٹیج میں وزیراعظم ہاؤس کے وسیع وعریض لان کے علاوہ ہاؤس کے اندر کے مناظر بھی دکھائے گئے تھے۔۔۔

غریب عوام کے امیر حکمرانوں کا گیارہ سو کنال پر پھیلا ہوا عالی شان محل، سرخ پتھروں سے شاہی محلات کے طرز پر بنایا گیا وزیراعظم ہاؤس جدید اور مہنگے ترین سامان سے لدا پڑا تھا۔۔ وزیراعظم ہاؤس میں ورزش کیلئے جم اور سوئمنگ پول بھی موجود ہیں۔۔۔

وزیر اعظم ہاؤس کے انتہائی قیمتی فرنیچر او رسہولیات دیکھ کر یہ اندازہ ہی ہوتا کہ یہ ایک مقروض ملک و قوم کے وزیر اعظم کا گھر ہے۔۔۔

جس ملک میں کروڑوں بچے اسکول نہیں جاتے،اور لاکھوں کو رہنے کے لیے ایک چھت نصیب نہیں، اور جو سارا سارا دن سڑکوں پر رہ کر اپنا پیٹ بھرنے جتنی روذی مشکل سے کماتے ہیں۔۔ آدھی سے زیادہ آبادی کو صاف پانی تک میسر نہیں، جسے قرض کا سود اداکرنے کیلئے بھی قرض لینا پڑتا ہو ،اس ملک کے حکمرانوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی شاہانہ طرز زندگی اختیار کریں۔۔اللہ اس ملک کو محفوظ ہاتھوں کے سپرد کریں۔ آمین۔۔!!

2 Comments
  1. ہشام ہاشمی says

    بد قسمتی سے ہمیں قا ئد اعظم کے بعد کوئی رہنما میسر ہی نہیں آیا جو قوم کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ مشعل راہ بھی ہوتا ۔ بھنسوں کی یا گا ڑیوں کی نیلامی محض قوم کو یہ سمجھانے کےلئے ہے کے اب یہ سب کچھ نہیں پوگا
    مگر معملات اس سے کہیں زیادہ گھمبیر ہیں
    خان صاحب کو بھی پتہ چل گیا ہو گا کے تقریر کرنے اور کام کرنے میں بڑا فرق ہے اس کے باوجود ان کی نیت میں کسی کو کوئی شک نہیں الله انہیں کامیابی دے کیوں کہ اس میں قوم کی کامیابی ہے

    1. Manahil Hamid says

      آمین۔۔

Comments are closed.